منگل‬‮ ، 06 اکتوبر‬‮ 2026 

راولپنڈی،دینی طالبعلم کو مسجد جیسے مقدس مقام پر زیادتی کا نشانہ بنانے والے گرفتار مولوی ملزم نے جرم کا اعترف کر لیا،افسوسناک انکشافات

datetime 21  ستمبر‬‮  2019 |

راولپنڈی (این این آئی)دینی طالبعلم کو مسجد جیسے مقدس مقام پر بدفعلی کا نشانہ بنانے والے گرفتار مولوی ملزم نے جرم کا اعترف کر لیا،سفاک ملزم کی چالاکیوں کا میڈیکل رپورٹ کے ذریعے پردہ چاک کرنے پر سماجی تنظیموں کی طرف سے سی پی او کو مبارکباد،تفصیلات کے مطابق راولپنڈی پولیس کی فرینڈلی پولیسنگ کی کامیابیوں کے حوالے سے وجہ شہرت بننے والے واقعہ نے ایک طرف سی پی او فیصل رانا کے پروفیشنل پولیس کمانڈر ہونے کا لوہا منوایا ہے تو دوسری طرف ایک ایسے سفاک ملزم کو قانون کے شکنجے میں جکڑا ہے

جس نے دینی تعلیم دینے کی آڑ میں مسجد جیسے مقدس مقام پر اپنے شاگرد کو بدفعلی کا نشانہ بنایا،اس حوالے سے ایس پی صدر رائے مظہر اقبال نے سٹی پولیس آفیسر ڈی آئی جی محمد فیصل رانا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گرفتار ملزم مولوی لیاقت نے تفتیش کے دوران اس بات کا اعتراف کیا اس سے غلطی ہو گئی ہے کہ اس نے اپنے کم سن شاگرد سے بدفعلی کی،ایس پی نے بتایا کہ ملزم کو پیر کے روز ڈی این اے ٹیسٹ کے لئے بھجوایا جائے گا،ادھر سماجی تنظیموں کا کہنا ہے کہ سی پی او فیصل رانا نے پروفیشنل انداز میں دینی تعلیم کی آڑ میں بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے والے سفاک اور چالاک ملزم کو ایسے ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ گرفتار کیا کہ میڈیکل رپورٹ آنے سے پہلے تک ملزم مولوی کے ساتھ کھڑے ہو کر پولیس کے خلاف نعرے بازی کرنے والے بچے کے ورثاء اور اہل علاقہ اب پولیس کے ساتھ نہ صرف کھڑے ہو گئے ہیں بلکہ سی پی او فیصل رانا کی پروفیشنل کمانڈ کے قائل ہو گئے ہیں،ایک روز قبل تک پولیس پر مختلف الزامات لگانے والے احتجاجی افراد اب ملزم کو سخت ترین سز ادینے کا مطالبہ کر رہے ہیں،سماجی تنظیموں کا کہنا ہے کہ سی پی او نے جس طرح اعلان کیا کہ پنڈی کا ہر بچہ ان کا اپنا بچہ ہے اس اعلان پر عملی اقدامات ہوتے نظر آ گئے ہیں اگر سی پی او از خود کارروائی نہ کرتے تو نجانے یہ سفاک ملزم اور کتنے بچوں کے ساتھ مقدس مقام پر مکروہ کھیل کھیلتا،سی پی اوفیصل رانا نے ایس پی صدر کو ہدائت کی کہ وہ اس کیس کی تفتیش کی خود نگرانی کریں،

ملزم کو ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ چالان کیا جائے تاکہ اسے قانون کے مطابق معزز عدالت سے ایسی سزا دلوائی جائے جو معاشرے میں عبرت کا نشان ہو،سی پی او نے کہا کہ ملزم نے اپنے مقدس منصب سے بھی غداری کی ہے پولیس نے اس کا پردہ چاک کر کے اس کے اصل کردار سے معاشرے کو آگاہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ پنڈی پولیس یہاں کے بچوں کے تحفظ اور انہیں ہر قسم کے تشدد سے بچانے کے لئے ایک مکمل روڈ میپ پر عمل پیرا ہے،انہوں نے کہا کہ پنڈی کی قانون پرست عوام یہاں کے میرٹ پسند میڈیا معزز عوامی نمائندگان اور مختلف طبقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی طرف سے پنڈی پولیس کو کارکردگی پر جو پذیرائی مل رہی ہے وہ ہمارے لئے زندگی کا بہت بڑا اعزاز ہے میں اس کارکردگی کا کریڈٹ پوری پنڈی پولیس کو دیتا ہوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…