نوازحکومت نے تین کمپنیوں کی سربراہی مبین صولت کو دے کر 20 ارب ڈالر کی کرپشن کی، تحقیقاتی اداروں کی رپورٹ،سنسنی خیز انکشافات

  منگل‬‮ 17 ستمبر‬‮ 2019  |  23:28

اسلام آباد (آن لائن) وزارت پٹرولیم کے ذیلی ادارہ انٹر سٹیٹ گیس سروسز (آئی ایس جی ایس) مزید مالی بدعنوانی اور کرپشن سامنے آئی ہے۔ ادارہ کے سربراہ مبین صولت نے قواعد و ضوابط کے برعکس من پسند افراد کی بھرتیاں کیں ہیں جن کو بھاری معاوضے دیئے جا رہے ہیں یہ ادارے خالصتاً ٹیکنیکل ہیں جبکہ غیر ٹیکنیکل اور نا اہل افراد کو بھاری تنخواہوں پر بھرتی کر کے ادارہ کاستیاناس کر دیا گیا ہے۔ مبین صولت جو آئی ایس جی ایس جوائن کرنے سے قبل میکڈونلڈ میں کیشیئر کا کام کرتا تھا، نے کرپشن کی نئی داستانیں رقم کرنے


کے لئے وزارت پٹرولیم کے اعلیٰ افسران کو اپنا مطیع بنا رکھا ہے جبکہ وزارت پٹرولیم کے اعلیٰ افسران غیر ملکی دوروں میں آئی ایس جی ایس کے فنڈز استعمال کرتے ہیں جبکہ دبئی کے مہنگے سٹوروں پر شاپنگ وزارت پٹرولیم کے اعلیٰ افسران کا معمول بنا ہوا ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مبین صولت ڈاکٹر عاصم کے ساتھ مل کر 460ارب جبکہ شاہد خاقان عباسی کے ساتھ مل کر 20 ارب ڈالر کی کرپشن کا ساتھی تھا۔ حکومت برخاست ہونے کے فوراً بعد مبین صولت ان دونوں ملزمان کیخلاف وعدہ معاف گواہ بن گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مبین صولت ہر ماہ تیس لاکھ سے زائد تنخواہ وصول کر رہا ہے جبکہ آئی ایس جی ایس کا جنرل منیجرفنانس انس فاروق کو 16 لاکھ روپے ماہانہ پر بھرتی کیا گیا ہے۔ ڈپٹی چیف کے علاوہ سیکرٹری آئی ایس جی ایس اورنگزیب بھی ماہانہ لاکھوں روپے تنخواہ وصول کر رہے ہیں۔ چیف انجینئر فاروق قمر جو ترقی کر کے جی ایم بن گیا ہے بھی لاکھوں روپے کی تنخواہ وصول کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اخبار سے اپنی عملی زندگی شروع کرنے والی مس شبانہ کو قواعد کے برعکس بھرتی کر کے لاکھوں روپے کا پیکج دیا گیا تھا جب مبین صولت کو گورنمنٹ ہولڈنگ کی اضافی سربراہی ملی تو انہوں نے اپنی چہیتی مس شبانہ کو گورنمنٹ ہولڈنگ کمپنی میں لاکھوں روپے کا پیکج دے کر جنرل منیجر کا عہدہ دے دیا اب وہ گورنمنٹ ہولڈنگ میں مکمل اختیار رکھتی ہے۔ حقیقت میں مبین صولت نے شبانہ کے ساتھ مل کر وزارت پٹرولیم کے افسران سے قریبی تعلقات استوار کئے ہیں۔ پاکستان کے وزیر اعظم ماہانہ تنخواہ تین لاکھ روپے،وزیر پٹرولیم اڑھائی لاکھ،سپیکر قومی اسمبلی تین لاکھ،صدر پاکستان تین لاکھ جبکہ مبین صولت ماہانہ 40لاکھ روپے اور ا نکے پسندیدہ جی ایم 16لاکھ روپے ماہانہ قومی خزانہ سے خاموشی کے ساتھ ہتھیارہے ہیں۔تحقیقاتی اداروں کے ذرائع کے مطابق آئی ایس جی ایس کے ماہانہ اخراجات چار کروڑ روپے سے تجاوز کر گئے ہیں جبکہ مبین صولت کے پاس پانچ کروڑ کے لگ بھگ صوابدیدی فنڈز بھی ہیں۔ وزارت پٹرولیم کے شیرافگن‘ ڈپٹی سیکرٹری مقصود کے علاوہ توقیر شاہ تین افسران پر مشتمل گروپ مبین صولت کا مبینہ ساتھی گروپ ہے،جو ان کو ہر قسم کی مدد کے لئے ہر وقت موجود رہتا ہے اور اسی گروپ نے مبین صولت کا نام ای سی ایل سے نکلوانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور کابینہ ڈویژن سے دو عدد لیٹر وزارت داخلہ کو لکھوائے ہیں اس گروپ کا مقصد آئی ایس جی ایس کے نام پر غیر ملکی دورے کرنا اور مہنگے سٹوروں سے شاپنگ کرنا ہے جس کی تفصیلات منظر عام پر آئیں گی۔وزارت پٹرولیم کے کرپٹ افسران آئی ایس جی ایس کے بورڈآف ڈائریکٹرزکے ممبران بھی ہیں جواپناحصہ وصول کرنے کے بعد تمام غلط فیصلوں کی توثیق کردیتے ہیں اورآج تک کسی معاملے پر اعتراض نہیں کیا۔ذرائع نے بتایاکہ وزارت پٹرولیم کاافسرجو بورڈممبر بھی ہے،اسے غیرملکی دورے کرنے کا بڑاشوق ہے نان ٹیکنیکل ہونے کے باوجود وہ خالصتاً ٹیکنیکل معاملات پر بیرون ممالک ہونیوالے اجلاسوں میں شرکت ہیں،جس پرآئی ایس جی ایس کے فنڈزخرچ ہوتے ہیں۔ آئی ایس جی ایس 1996ء میں قائم کی گئی جس میں اربوں کی کرپشن ہو چکی ہے اور کمپنی اپنا ایک منصوبہ بھی مکمل نہیں کر سکی۔ اس کمپنی کے ایم ڈی مبین صولت نے چارج سنبھالتے ہی کرپشن اور بدعنوانی کے نئے ریکارڈ قائم کئے ہیں اور اہم تکنیکی پوسٹوں پر غیر تکنیکی افسران تعینات کر کے ادارہ کو تباہ کر دیا ہے ان کی کرپشن کی بدولت نواز شریف دور میں مبین صولت کو بیک وقت تین کمپنیاں پی ایل ٹی ایل اور پی ایل این کا سربراہ بنایا گیا اور تینوں کمپنیوں میں مجموعی طور پر 20 ارب ڈالر کی کرپشن کی گئی ہے۔ اس حوالے سے مس شبانہ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ رانگ نمبر ہے۔ مبین صولت نے خود جواب دینا بند کر دیا جبکہ توقیر شاہ‘ شیرافگن‘ انس فاروق وغیرہ نے بھی اپنی وضاحت نہیں ہے۔ وفاقی وزیر کی تنخواہ اڑھائی لاکھ جبکہ مبین صولت پچاس لاکھ سے زائد اور انس فاروق سولہ لاکھ کا پیکج لے رہے ہیں۔

loading...