اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

بے روزگار نوجوانوں کو لوٹنے کا نیا دھندہ شروع، ٹیسٹ کے نام پر ہزاروں نوجوانوں سے فیس وصول کرکے ”مال“بنایاجانے لگا،افسوسناک انکشافات

datetime 15  ستمبر‬‮  2019 |

کراچی (آن لائن) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ ٹیسٹنگ سروسز بے لگام ہوتی جا رہی ہیں۔ بے روزگار نوجوانوں سے300 سے1500 روپے فیس وصول کی جاتی ہے۔ یہ صورتحال روزگار کے نام پر لوٹ مار ہے۔ ٹیسٹ کے انعقاد کے بعد پوسٹیں کینسل کر کے دوبارہ مشتہر کی جا رہی ہیں۔ جس کے نتیجے میں نوجوانوں کو روزگار کے بدلے خواری مل رہی ہے اور ان کی جیبیں خالی ہو رہی ہیں۔

اس سلسلے میں میرٹ کے نفاذ کو قائم رکھتے ہوئے نئے قوانین اور قواعدو ضوابط وضع کئے جائیں۔ ٹیسٹنگ سروسز کو بے روزگار نوجوانوں سے لوٹ مار  کرنے سے  روکا جائے۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں الطاف شکور نے کہا کہ ملک میں بے روزگاری ایک خوفناک مسئلہ بن کر جنم لے رہی ہے۔ نوجوان ڈگریاں تھامے گھوم رہے ہیں اور انہیں معیار اور اہلیت کے باوجود روزگار دستیاب نہیں۔ ملک میں آج کل ٹیسٹنگ سروسز فعال ہیں۔ این ٹی ایس، بی ٹی ایس، او ٹی ایس اور سی ٹی ایس پی و دیگر ناموں سے ایک کاروبار وجود میں آگیا ہے جو درخواست دہندگان سے بھاری فیس بینکوں میں جمع کرانے کا اعلان کر کے بھاری رقم وصول کر لیتے ہیں۔ 10یا20 پوسٹوں کے لئے ہزاروں نوجوان فیس جمع کراتے ہیں۔ ٹیسٹ کے انعقاد کے بعد ان پوسٹوں کو کینسل کر دیا جاتا ہے اور کچھ عرصے کے بعد پھر سے ان پوسٹوں کو مشتہر کر دیا جاتا ہے اور بھاری فیس وصول کرنے کا سلسلہ پھر سے شروع کر دیا جاتا ہے۔ الطاف شکور نے کہا کہ پوسٹ کینسل کرنے کی صورت میں درخواست دہندگان کو رقم واپس کی جائے۔ آج کے نوجوان ملک کے مستقبل کے معمار ہیں اگر انہیں ملازمتوں کے حصول کے لئے بھاری رقومات خرچ کرنی، جوتے گھسانے اور کئی طرح کے پاپڑ بیلنے کا سلسلہ جاری رہا تو وہ ملازمتیں حاصل کر کے عوام سے لوٹ مار کی طرف راغب ہوں گے۔ ملک سے جرائم، چوری، ڈکیتی کے خاتمے کے لئے بھی ضروری ہے کہ بے روزگاری کے خاتمے کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…