جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

چرس کے استعمال میں پاکستان کا کون سا شہر دنیا میں دوسرے نمبر ہے؟حیرت انگیز انکشاف

datetime 12  ستمبر‬‮  2019 |

کراچی(آن لائن)چرس کے استعمال میں کراچی دنیا میں دوسرے نمبر ہے، جب کہ پاکستان میں چرس کا استعمال غیر قانونی ہے، جس کی سزا سات سال قید اور جرمانہ ہے۔برلن میں قائم ڈیٹا فرم اے بی سی ڈی کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق،چرس کے حوالے سے نیویارک77440 کلوگرام سالانہ کھپت کے ساتھ دنیا میں سرفہرست ہے۔

پاکستان کا شہر کراچی 41950 کلوگرام کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے جب کہ دہلی38260 کلوگرام کھپت کے ساتھ اس فہرست میں تیسرے نمبر پر ہے۔ چرس پینے کے حوالے سے پہلے سرفہرست دس شہروں میں 3 امریکی شہر نیویارک، لاس اینجلس اور شکاگو ہیں دو بھارتی شہر دہلی اور ممبئی ہیں۔ پہلے دس شہروں میں دو مسلم ممالک کے شہر کراچی اور قاہرہ ہیں، جہاں چرس پینا قانونا ًجرم ہے۔نیویارک، دہلی اور ممبئی میں چرس پینے کی قانون جزوی اجازت دیتا ہے، برطانیہ کا شہر لندن بھی اس فہرست میں ہے جہاں یہ نشہ جرم ہے، اس فہرست میں شامل شہروں میں لاس اینجلس، شکاگو، ماسکو اور ٹورنٹو وہ شہر ہیں جہاں چرس کے استعمال کی قانون اجازت دیتا ہے۔ بھنگ کی اوسط قیمت 685 روپے ( 4عشاریہ38ڈالر) فی گرام ہے، دنیا میں سب سے زیادہ سستی چرس دہلی میں ملتی ہے۔دنیا کے کئی ملکوں میں چرس کا نشہ کرنے کو جرم نہیں سمجھا جاتا، کئی امریکی ریاستوں نے چرس کے استعمال کو قانونی حیثیت دے دی ہے ، متحدہ عرب امارات، مصر، ملائیشیا، اور فلپائن میں چرس کے لین دین پر موت کی سزا مقرر ہے، چاہے اس کی مقدار کتنی ہی معمولی کیوں نہ ہو۔جاپان میں بھی چرس کی خرید و فروخت پر طویل قید کی سزا دی جاتی ہے۔

جبکہ پاکستان میں کنٹرول آف نارکوٹکس سبسٹینس ایکٹ1997کے تحت اس کی کاشت، پیداوار، تیاری، خریدو فروخت اور تقسیم غیر قانونی ہے ، جس کی زیادہ سے زیادہ سزا 7 سال قید اور جرمانہ ہے۔ تاہم طبی، سائنسی اور صنعتی مقاصد کے لئے صوبائی یا وفاقی حکومت سے خصوصی اجازت نامہ لے کر کاشت کی جاسکتی ہے۔2017کی ایک تحقیق کے مطابق چرس کے نشے سے ہلاکت کا خطرہ 3 گنا زیادہ ہوتا ہے،چرس کا نشہ کرنے والوں میں، ہائی بلڈ پریشر سے ہلاک ہونے کا خطرہ ان لوگوں کے مقابلے میں 3 گنا زیادہ ہوتا ہے جنہوں نے یہ نشہ کبھی نہ کیا ہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…