ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

چرس کے استعمال میں پاکستان کا کون سا شہر دنیا میں دوسرے نمبر ہے؟حیرت انگیز انکشاف

datetime 12  ستمبر‬‮  2019 |

کراچی(آن لائن)چرس کے استعمال میں کراچی دنیا میں دوسرے نمبر ہے، جب کہ پاکستان میں چرس کا استعمال غیر قانونی ہے، جس کی سزا سات سال قید اور جرمانہ ہے۔برلن میں قائم ڈیٹا فرم اے بی سی ڈی کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق،چرس کے حوالے سے نیویارک77440 کلوگرام سالانہ کھپت کے ساتھ دنیا میں سرفہرست ہے۔

پاکستان کا شہر کراچی 41950 کلوگرام کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے جب کہ دہلی38260 کلوگرام کھپت کے ساتھ اس فہرست میں تیسرے نمبر پر ہے۔ چرس پینے کے حوالے سے پہلے سرفہرست دس شہروں میں 3 امریکی شہر نیویارک، لاس اینجلس اور شکاگو ہیں دو بھارتی شہر دہلی اور ممبئی ہیں۔ پہلے دس شہروں میں دو مسلم ممالک کے شہر کراچی اور قاہرہ ہیں، جہاں چرس پینا قانونا ًجرم ہے۔نیویارک، دہلی اور ممبئی میں چرس پینے کی قانون جزوی اجازت دیتا ہے، برطانیہ کا شہر لندن بھی اس فہرست میں ہے جہاں یہ نشہ جرم ہے، اس فہرست میں شامل شہروں میں لاس اینجلس، شکاگو، ماسکو اور ٹورنٹو وہ شہر ہیں جہاں چرس کے استعمال کی قانون اجازت دیتا ہے۔ بھنگ کی اوسط قیمت 685 روپے ( 4عشاریہ38ڈالر) فی گرام ہے، دنیا میں سب سے زیادہ سستی چرس دہلی میں ملتی ہے۔دنیا کے کئی ملکوں میں چرس کا نشہ کرنے کو جرم نہیں سمجھا جاتا، کئی امریکی ریاستوں نے چرس کے استعمال کو قانونی حیثیت دے دی ہے ، متحدہ عرب امارات، مصر، ملائیشیا، اور فلپائن میں چرس کے لین دین پر موت کی سزا مقرر ہے، چاہے اس کی مقدار کتنی ہی معمولی کیوں نہ ہو۔جاپان میں بھی چرس کی خرید و فروخت پر طویل قید کی سزا دی جاتی ہے۔

جبکہ پاکستان میں کنٹرول آف نارکوٹکس سبسٹینس ایکٹ1997کے تحت اس کی کاشت، پیداوار، تیاری، خریدو فروخت اور تقسیم غیر قانونی ہے ، جس کی زیادہ سے زیادہ سزا 7 سال قید اور جرمانہ ہے۔ تاہم طبی، سائنسی اور صنعتی مقاصد کے لئے صوبائی یا وفاقی حکومت سے خصوصی اجازت نامہ لے کر کاشت کی جاسکتی ہے۔2017کی ایک تحقیق کے مطابق چرس کے نشے سے ہلاکت کا خطرہ 3 گنا زیادہ ہوتا ہے،چرس کا نشہ کرنے والوں میں، ہائی بلڈ پریشر سے ہلاک ہونے کا خطرہ ان لوگوں کے مقابلے میں 3 گنا زیادہ ہوتا ہے جنہوں نے یہ نشہ کبھی نہ کیا ہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…