منگل‬‮ ، 18 اگست‬‮ 2026 

مون سون کی بارشوں کا نیاسلسلہ شروع ہوگیا، پاکستان کے بڑے شہر کے بیشتر علاقے ڈوبنے کا خطرہ،نشیبی علاقے زیرآب،پانی ریلوے سٹیشن میں بھی داخل

datetime 9  اگست‬‮  2019 |

کراچی (این این آئی) سندھ میں جمعہ سے مون سون کی بارشوں کا سلسلہ شروع ہوگیا، صبح سویرے حیدرآباد میں تیز بارش کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آگئے اور بارش کا پانی ریلوے اسٹیشن میں بھی داخل ہوگیا جس کے باعث ٹرینوں کی آمدورفت میں تاخیر ہو رہی ہے۔ سکھر ایکسپریس اور دوسری ٹرینیں کئی گھنٹوں کی تاخیر کا شکار ہیں۔

سندھ حکومت نے محکمہ موسمیات کی ممکنہ بارشوں کی پیشگوئی کے پیش نظر صوبے بھر کے ساڑھے 8 لاکھ ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کردی ہیں اور تمام سرکاری ملازمین کو حکم جاری کیا گیا ہے کہ جہاں ان کی پوسٹنگ ہے وہ وہاں پر موجود رہیں جبکہ صوبہ بھر کے متعلقہ محکموں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جاسکے۔ علاوہ ازیں کراچی میں بارشوں کے دوسرے اسپیل کی پیشگوئی کے باوجود بھی بلدیہ عظمی کراچی شہر کے مرکزی نالوں کی صفائی میں مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے اور نہ ہی کراچی کی سڑکوں سے کچرے کے انبار صاف کیے گئے ہیں، حالیہ بارشوں میں شہر کی 43 سے زائد آبادیاں زیر آب آسکتی ہیں۔ کراچی میں ہونے والی بارشوں میں جن آبادیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں ان کی تعداد 43 سے زائد ہے جس میں سرجانی ٹاؤن، نیو کراچی، نارتھ کراچی، شفیق موڑ، موسی کالونی، کوثر نیازی کالونی، کے پی آر کالونی، بطحہ ٹاؤن، واحد کالونی، نیاز منزل کے اطراف کی آبادی، مجاہد کالونی، پیپلز کالونی، محمود آباد، منظور کالونی، کراچی ایڈمن سوسائٹی، کشمیر کالونی، لیاقت آباد کے تمام بلاکس کے ساتھ ساتھ غریب آباد، حسین آباد، بانٹوا نگر، لال کوٹھی سے مسجد رومی تک، وائرلیس گیٹ، ماڈل کالونی، ملیر کینٹ، ناتھا خان گوٹھ، ملت ٹاؤن، عظیم پورہ، ملیر ہالٹ، جناح اسکوائر، کورنگی نمبر ایک سے پانچ تک، قائدآباد، بھینس کالونی کے اطراف کے علاقے، ابراہیم حیدری، ریڑھی گوٹھ، اردو بازار، برنس روڈ، کھارادر، میٹھادر، سٹی ریلوے کالونی، کالا پل کے اطراف کی آبادیاں، مچھر کالونی، سعدی ٹاؤن اور سعدی گارڈن کے علاقے شامل ہیں۔

محکمہ موسمیات کی طرف سے ایک ہفتہ قبل جاری کیے جانے والے الرٹ کے باوجود حکومت سندھ کی طرف سے نالوں کی صفائی اور کراچی کے ضلع ملیر میں موجود تھڈو ڈیم اور لٹھ ڈیم کے پشتوں کی مرمت پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم اے کی طرف سے حکومت سندھ کو واضح طور پر بتا دیا گیا تھا کہ کیرتھر کے پہاڑی سلسلے پر ہونے والی تیز بارشوں سے آنے والے پانی کی وجہ سے ضلع ملیر اور غربی کے کچی آبادی والے علاقے زیر آب آسکتے ہیں۔

حکومت کی طرف سے اقدامات نہ کیے جانے کی وجہ سے سپرہائی پر موجود مویشی منڈی کے زیر آب آنے کے بھی امکانات بڑھ گئے ہیں جہاں اس وقت 4 لاکھ سے زائد مویشی موجود ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت سندھ نے اس وقت تک بڑے شہروں کے حوالے سے کوئی کانٹی جنسی پلان تیار نہیں کیا ہے جس کی وجہ سے صورتحال سنگین ہونے کے امکانات بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ ادھر امدادی سرگرمیوں کے لیے حکومت سندھ کے اداروں سمیت پاک فوج کو الرٹ رکھا گیا ہے جبکہ بلدیاتی اداروں،

محکمہ آبپاشی، صحت، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت عامہ کے ملازمین کی عید کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ حکومت سندھ نے گزشتہ روز امدادی سرگرمیوں کے لیے 38 کروڑ سے زائد رقم بھی جاری کر دی ہے جن میں سے 16 کروڑ 50 لاکھ روپے کراچی کو دیے گئے ہیں۔ محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے مطابق بارش کا جو نیا سلسلہ داخل ہوا اس کے تحت کراچی، جنوبی سندھ اور وسطی سندھ کے 19 اضلاع میں 70 سے 80 ملی میٹر بارش کا امکان ہے تاہم عالمی اداروں کی پیشگوئی کے مطابق

ان اضلاع میں 150 ملی میٹر سے بھی زائد بارش ہوسکتی ہے، زیادہ متاثر ہونے والے اضلاع میں کراچی کے تمام 6 اضلاع، ٹھٹھہ، بدین، میرپورخاص اور حیدرآباد شامل ہیں جبکہ دیگر اضلاع میں سجاول، ٹنڈوالہیار، ٹنڈو محمد خان، مٹیاری، سانگھڑ، بے نظیر آباد، جامشورو، عمر کوٹ اور تھرپارکر شامل ہیں۔ دوسری طرف کے الیکٹرک نے اپنی نااہلی شہریوں پر تھوپنے کی تیاری کرلی، تیز بارش ہونے کی صورت میں پاور جنریشن پلانٹس اور گرڈ اسٹیشنوں کے ناقص آلات بچانے کے لیے بڑے بریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بارش کے دوران عید تعطیلات اندھیرے میں گزرنے کے خدشات بڑھ گئے۔ اہم ذرائع نے بتایا کہ کے الیکٹرک کے بجلی پیداواری پلانٹس بن قاسم سمیت ڈسٹری بیوشن کے انجینئرز نے ممکنہ بارشوں میں بجلی کا نظام مکمل طور پر بیٹھ جانے کے خدشات سے انتظامیہ کو آگاہ کر دیا ہے۔

یہی نہیں بلکہ سفارش بھی کی ہے کہ برسات شروع ہونے کے ساتھ ہی جنریشن یونٹس اور بجلی فراہم کرنے والے تمام فیڈرز بند کر دیے جائیں تاکہ کے الیکٹرک کو کم سے کم نقصان پہنچے۔ ذرائع نے بتایا کہ کے الیکٹرک کے انجینئرز نے انتظامیہ کو بتایا ہے کہ شہر میں بجلی کا ازخود بریک ڈاؤن نہ کیا گیا تو آلات ڈی ریٹڈ ہونے کی وجہ سے کے الیکٹرک کو بھاری نقصان پہنچ سکتا ہے۔ جبکہ ازخود شٹ ڈاؤن سے ان آلات کو جلنے اور خراب ہونے سے بچایا جاسکتا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ برسات ہونے پر بند ہونے والی بجلی کی بحالی بھی ریکوری کے حساب سے کی جائے گی جس میں شہر کے پوش علاقے پہلی ترجیح ہوں گے، نو لوڈشیڈز زونز دوسری اور لوڈ شیڈنگ والے ایریاز تیسری ترجیح ہوں گے۔ اسی طرح کے الیکٹرک آخر میں ان علاقوں میں بجلی فراہم کرے گی جو کے الیکٹرک کے متوازی ٹھیکیداری نظام کے تحت چلائے جاتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…