منگل‬‮ ، 18 اگست‬‮ 2026 

سینیٹ میں ضمیر فروشی کا فائدہ حکومت نہیں بلکہ کس کو ہوگا؟اے این پی کے سینئر رہنما حاجی غلام احمدبلور نے حیرت انگیزدعویٰ کردیا

datetime 2  اگست‬‮  2019 |

پشاور(این این آئی)عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما حاجی غلام احمد بلور نے کہا ہے کہ سینیٹ میں ہونے والی بدترین ہارس ٹریڈنگ کے بعد سر تا پا کرپشن میں لت پت حکمرانوں کو اب کرپشن کے خلاف بات کرنے سے گریز کرنا چاہئے، رات دن کرپشن کے خلاف راگ الاپنے والوں کو اپنا بیانیہ تبدیل کر لینا چاہئے، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے دوسری بار پارلیمنٹ کے تقدس پر وار کیا ہے،

گزشتہ سال 25جولائی کو عام انتخابات میں عوامی رائے پر غاصبانہ قبضہ کر کے کرپشن کے ریکارڈ توڑے گئے اور آج ایک بار پھر سینیٹ میں بدترین دھاندلی اور ضمیر فروشی کی مثال قائم کر دی، حاجی غلام احمد بلور نے کہا کہ سینیٹرز کو ڈرا دھمکا کر اور دولت کی چمک کے ذریعے خریدا گیا،لیکن اپوزیشن ہار کر بھی جیت گئی کیونکہ عوام کے دلوں میں سلیکٹڈ اور زبردستی اقتدار میں آنے والوں کے خلاف نفرت میں اضافہ ہو گا اور اپوزیشن رہنماؤں کی عزت و توقیر مزید بڑھے گی،انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اتحاد کے 14سینیٹرز نے مخالفین کے حق میں ووٹ دے کر اپنے ضمیروں کا سودا کیا ہے جس پر تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی، انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی حکمت عملی میں کامیابی کے بعد بیشک تالیاں بجائے لیکن عوام اب ان کی اصلیت جان چکے ہیں اور دوسروں کیلئے کرپشن کے گڑھے کھودنے والے خود اس گندگی میں لت پت ہو چکے ہیں، حاجی بلور نے کہا کہ سینیٹ اجلاس میں ہونے والی ہارس ٹریڈنگ اور ضمیر فروشی کا سب سے بڑا فائدہ اپوزیشن کو ہو گا، انہوں نے تحریک کے حق میں ووٹ دینے والوں کو سلام پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ 50سینیٹرز نے اپنی غیرت و ناموس کا سودا نہ کر کے اپنی جماعتوں کی طرف سے کئے گئے اعتماد کا بھرپور حق ادا کر دیا ہے، حاجی غلام احمد بلور نے کہا کہ ضمیر فروشوں نے ایک بار پھر خود کو منافقت کے پلڑے میں ڈال کر اپنی قیمت لگائی جس کا حسان انہیں دینا پڑے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…