منگل‬‮ ، 24 فروری‬‮ 2026 

شیخ رشید کے مستعفی ہونے اور سعد رفیق کو کنٹریکٹ پر وزیر ریلوے لگانے کیلئے بڑا قدم اٹھا لیا گیا

datetime 2  اگست‬‮  2019 |

لاہور (آن لائن) مسلم لیگ (ن) کی رکن پنجاب اسمبلی سمیرا کومل نے شیخ رشید کے مستعفی ہونے اور سعد رفیق کو کنٹریکٹ پر وزیر ریلوے لگانے کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کرادی۔وزارت ریلوے نے گیارہ ماہ میں 74ٹرین حادثات کا اعتراف کیا ہے۔ان حادثات میں، 20 مال گاڑیوں ،

19 مسافر ٹرینوں ، 20 ریلوے پھاٹک اور تین آتشزدگی کے حادثات شامل ہیں۔جبکہ بیسیوں بے گناہ شہریوں کی ہلاکتیں اس کے علاوہ ہیں۔ان گیارہ ماہ میں ریلوے کا خسارہ بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے دن رات محنت سے ریلوے کو ترقیافتہ محکمہ بنایا۔خواجہ سعد رفیق کے دور میں سالوں سے کھڑی ٹرینیں چلائی گئی۔خواجہ سعد رفیق کے دور میں ریلوے ایک منافع بخش ادارہ بن چکا تھا۔لیکن ان گیارہ ماہ میں ریلوے کو شدید ترین مالی خسارے کا سامنا ہے۔ریلوے کی تباہی کے ذمہ دار وزیر ریلوے شیخ رشید ہیں۔شیخ رشید ریلوے کیلئے سفید ہاتھی بن چکے ہیں۔ لہٰذا پنجاب اسمبلی کا یہ ایوان ریلوے میںروزبروز حادثات میں اضافے اور شہریوں کی ہلاکت پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ ریلوے کی تباہی اور مالی خسارے کے ذمہ دار شیخ رشید ہیں۔یہ ایوان وزیر ریلوے سے فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتا ہے۔یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ ریلوے کی بحالی کیلئے حکومت خواجہ سعد رفیق کو کنٹریکٹ پر ریلوے کا وزیر مقرر کردے۔تاکہ ریلوے کو مزید خسارے سے بچایا جا سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نواز شریف کی سیاست میں انٹری


لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…