جمعرات‬‮ ، 28 مئی‬‮‬‮ 2026 

کیپٹن کرنل شیر خان شہید ،وہ پاکستانی فوجی جس کی بہادری کا بھارتی فوج نے بھی اعتراف کیا، کارگل جنگ سے متعلق اہم انکشافات

datetime 31  جولائی  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ایسا کبھی کبھار ہی ہوتا ہے کہ دشمن کی فوج اپنے مقابل  کسی فوجی کی بہادری کی تعریف کرے ۔کارگل جنگ کے دوران ایسا ہی واقعہ پیش آیا جب ٹائیگر ہل کے محاذ پر پاکستانی فوج کے کپتان کرنل شیر خان نے اتنی بہادری کے ساتھ جنگ کی کہ بھارتی فوج نے ان کی شجاعت کا اعتراف کیا۔

بی بی سی کے مطابق اس لڑائی کی کمانڈ سنبھالنے والے بریگیڈیئر ایم ایس باجوہ بتاتے ہیں ‘جب یہ جنگ ختم ہوئی تو میں اس افسر کا قائل ہو چکا تھا۔ باقی سارے پاکستانی فوجی کرتے پاجاموں میں تھے اور وہ تنہا ٹریک سوٹ میں تھا۔حال ہی میں کارگل پر شائع ہونے والی کتاب ‘کارگل ان ٹولڈ سٹوریز فرام دی وار’ کی مصنفہ کے مطابق پاکستانیوں نے ٹائیگر ہل پر پانچ مقامات پر اپنی چوکیاں قائم کر رکھی تھیں۔ پہلے آٹھ سکھ رجمنٹ کو ان پر قبضہ کرنے کا کام دیا گیا لیکن وہ یہ نہیں کر پائے۔بعد میں جب 18 گرینیڈیئرز کو بھی ان کے ساتھ لگایا گیا تو وہ کسی طرح اس پوزیشن پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوئے لیکن کیپٹن شیر خان نے ایک جوابی حملہ کیا۔ پہلی بار ناکام ہونے کے بعد انھوں نے اپنے فوجیوں کو دوبارہ تیار کرکے حملہ کیا’جو یہ جنگ دیکھ رہے تھے وہ سب کہہ رہے تھے کہ یہ ‘خودکش’ حملہ تھا۔ وہ جانتے تھے کہ یہ مشن کامیاب نہیں ہوگا، کیونکہ انڈین فوجیوں کی تعداد ان سے کہیں زیادہ تھی۔بریگیڈیئر باجوہ کہتے ہیں: ‘کیپٹن شیر خان بہت بہادری سے لڑے۔ آخری میں ہمارا ایک نوجوان کرپال سنگھ جو زخمی پڑا ہوا تھا، اس نے اچانک اٹھ کر 10 گز کے فاصلے سے ایک ‘برسٹ’ مارا اور شیر خان کو گرانے میں کامیاب رہا۔ان کے مطابق پاکستانی حملے کے بعد ‘ہم نے وہاں 30 پاکستانیوں کی لاشوں کو دفنایا۔ لیکن میں نے پورٹرز بھیج کر کیپٹن کرنل شیر خان کی لاش کو نیچے منگوایا اور ہم نے اسے بریگیڈ ہیڈکوارٹر میں رکھا۔

جب کیپٹن شیر خان کی لاش واپس کی گئی تو ان کی جیب میں بریگیڈیئر باجوہ نے کاغذ کا ایک پرزہ رکھ دیا جس پر لکھا تھا: ’12 این ایل آئی کے کپتان کرنل شیر خان انتہائی بہادری اور بیجگری سے لڑے اور انھیں ان کا حق دیا جانا چاہیے۔کرنل شیر نے اکتوبر سنہ 1992 میں پاکستانی فوجی اکیڈمی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ جب وہ وہاں پہنچے تو انھوں نے داڑھی رکھی ہوئی تھی۔ انھیں داڑھی صاف کرنے کو کہا گیا تھا تو انھوں نے انکار کر دیا۔ان کے آخری سیشن میں ان سے دوبارہ کہا گیا کہ آپ کی کارکردگی اچھی رہی ہے اگر آپ داڑھی صاف کر دیتے ہیں تو آپ کو اچھی پوسٹنگ مل سکتی ہے۔لیکن انھوں نے دوبارہ انکار کر دیا۔ اس کے باوجود انھیں بٹالین کوراٹر ماسٹر کی پوزیشن دی گئی۔کیپٹن شیر خان کو پاکستانی فوج کے سب سے بڑا اعزاز نشان حیدر سے نوازا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…