جمعہ‬‮ ، 10 اپریل‬‮ 2026 

پراپرٹی رینٹل انکم پرٹیکس 20 سے بڑھا کر 35 فیصد کر دیا گیا،،تنخواہ دار طبقے کو اب کتنے فیصد سالانہ ٹیکس دینا ہوگا؟تفصیلات جاری

datetime 30  جولائی  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)ایف بی آر نے فنانس ایکٹ 2019 کی انکم ٹیکس تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ایف بی آر کے مطابق پراپرٹی رینٹل انکم پر زیادہ سے زیادہ ٹیکس 20 سے بڑھا کر 35 فیصد کر دیا گیا ہے۔ ایف بی آر کے مطابق 20 تا 60 لاکھ روپے کی پراپرٹی انکم پر 5 فیصد ٹیکس عائد ہو گا،60 لاکھ تا ایک کروڑ روپے کی پراپرٹی انکم پر 10 فیصد ٹیکس عائد ہو گا،ایک کروڑ تا 2 کروڑ روپے کی پراپرٹی انکم پر 60 ہزار، 15 فیصد ٹیکس عائد ہو گا،2 کروڑ تا 4 کروڑ روپے کی

پراپرٹی انکم پر 2 لاکھ 10 ہزار روپے، 20 فیصد ٹیکس عائد ہو گا، 4 تا 6 کروڑ روپے کی پراپرٹی انکم پر 6 لاکھ 10 ہزا روپے، 25 فیصد ٹیکس عائد ہو گا، 6 تا 8 کروڑ روپے کی پراپرٹی انکم پر ایک کروڑ 11 روپے، 30 فیصد ٹیکس عائد ہو گا اور 8 کروڑ روپے سے زائد کی پراپرٹی رینٹل انکم پر ایک کروڑ 71 لاکھ روپے، 35 فیصد ٹیکس عائد ہو گا۔ایف بی آر کے مطابق 50 لاکھ روپے کی پراپرٹی پر 5 فیصد کیپٹل گین ٹیکس بھی عائدکیا گیا ہے،50 لاکھ سے ایک کروڑ روپے کی پراپرٹی پر 10 فیصد کیپٹل گین ٹیکس عائدکیا گیا ہے جبکہ ایک کروڑ تا ڈیڑھ کروڑ روپے کی پراپرٹی پر 15 فیصد کیپٹل گین ٹیکس عائدکیا گیا ہے،تنخواہ دار طبقے پر 5 تا 35 فیصد سالانہ ٹیکس عائد ہو گا۔ ایف بی آر کے مطابق تنخواہ دار طبقے کیلئے سالانہ ٹیکس چھوٹ کی حد 6 لاکھ روپے مقرر ر کی گئی ہے،6 لاکھ سے 12 لاکھ روپے کی آمدن پر 5 فیصد ٹیکس عائدکیا گیا ہے اسی طرح 12 لاکھ سے 18 لاکھ روپے کی آمدن پر 30 ہزار روپے، 10 فیصد ٹیکس،18 لاکھ سے 25 لاکھ کی آمدن پر 90 ہزار روپے، 15 فیصد ٹیکس، 25 لاکھ سے 35 لاکھ آمدن پر ایک لاکھ 95 ہزار، ساڑھے 17 فیصد ٹیکس،سالانہ 35 لاکھ سے 50 لاکھ آمدن پر 3 لاکھ 70 ہزار روپے، 20 فیصد ٹیکس،سالانہ 50 لاکھ سے 80 لاکھ روپے کی آمدن پر 6 لاکھ 70 ہزار اور 22.5فیصد ٹیکس، 80 لاکھ سے ایک کروڑ 20 لاکھ کی آمدن پر 13 لاکھ 45 ہزار اور 25 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے،ایک کروڑ 20 لاکھ سے 3 کروڑ کی آمدن کا 23 لاکھ 45 ہزار اور ساڑھے 27.5 فیصد ٹیکس،سالانہ 3 کروڑ سے 5 کروڑ کی

آمدن پر 72 لاکھ 95 ہزار روپے اور 30 فیصد ٹیکس، 5 کروڑ سے ساڑھے 7 کروڑ پر ایک کروڑ 32 لاکھ 95 روپے، ساڑھے 32 فیصد ٹیکس،سالانہ ساڑھے 7 کروڑ سے زائد آمدن پر 2 کروڑ 14 لاکھ 20 ہزار، 35 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔ ایف بی آرنے50 لاکھ روپے قرض کے منافع پر 15 فیصد ٹیکس عائدکیا ہے جبکہ 50 لاکھ تا ڈھائی کروڑ روپے قرض کے منافع پر ساڑھے 17 فیصد ٹیکس،ڈھائی کروڑ تا 3 کروڑ 60 لاکھ روپے قرض کے منافع پر 20 فیصد ٹیکس عائدکیا گیا ہے،ٹرن اوور ٹیکس اعشاریہ 75 فیصد سے ڈیڑھ فیصد تک بڑھا دیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…