منگل‬‮ ، 18 اگست‬‮ 2026 

فضل الرحمن نے واپڈا چیف سے رشوت میں نئی پجارو لی،نئے چیف کے واپس مانگنے پر مولانا نے گاڑی کا رنگ ہی تبدیل کروالیا‎

datetime 29  جولائی  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)معروف صحافی و تجزیہ کار ضیاء شاہد نے نجی ٹی وی پروگرام میں انکشاف کیا ہے کہ جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے واپڈا چیف سے ڈیمانڈ کی ، جسے رشوت بھی کہا جا سکتا ہےاور کہا کہ میرے پاس جو سرکاری گاڑی ہے

وہ بعض مرتبہ فور وہیل ڈرائیو نہیں ہوتی اور مجھے کئی مرتبہ دیہاتی علاقوں میں جانا ہوتا ہے، مجھے ایک اچھی سی فور وہیل گاڑی دلوائی جائے۔جس پر مصطفیٰ کھر نے حکم دیا کہ مولانا صاحب کو ایک گاڑی نکلوا کر اس کو صاف ستھرا کر کے دے دیا جائے اور اگر اس گاڑی میں کوئی مرمت بھی ہونے والی ہے تو وہ مرمت بھی کروائی جائے اور مولانا صاحب کو گاڑی  دے دی جائے۔ اس زمانے میں پجارو کا بہت زیادہ رواج تھا ، پجارو بہت زیادہ استعمال ہوتی تھی لہٰذا کچھ عرصہ استعمال ہوئی ایک پجارو واپڈا نے ایک بندے کے ہاتھ مولانا فضل الرحمان کو بھجوا دی تھی۔لیکن جب مصطفیٰ کھر کی وزارت کا دور ختم ہوا تو نئے واپڈا چیف جنرل ذوالفقار نے حکم دیا کہ رشوت کی جتنی گاڑیاں ادھر اُدھر دی ہوئی ہیں اُن کو واپس بلوایا جائے۔ جب مولانا فضل الرحمان کو گاڑی واپس کرنے کا کہا گیا تو انہوں نے یہ کہلوا بھیجا کہ وہ گاڑی تو چوری ہو گئی تھی اور ایف آئی آر نمبر یہ ہے۔انہوں نے گاڑی کی جگہ وہ ایف آئی آر بھجوا دی۔ لیکن واپڈا کی ایک ریکی ٹیم نے اصل حقائق بتائے اور کہا کہ اس گاڑی کا رنگ تبدیل کر دیا گیا ہے، اس گاڑی کے نمبر تبدیل کر دیئے گئے ہیں اور اب جو نمبر لگا ہوا ہے وہ جمیعت علمائے اسلام (ف) کے کسی کارکن کی موٹرسائیکل کا نمبر ہے۔واضح رہے کہ فضل الرحمن پر اس سے پہلے بھی مختلف قسم کے سنگین الزامات لگتے رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…