منگل‬‮ ، 18 اگست‬‮ 2026 

 مولانا فضل الرحمان نے وفاقی حکومت کو مستعفی ہونے کیلئے ڈیڈ لائن دیدی،اگر استعفیٰ نہ دیا تو پھر کیا کریں گے؟ دھماکہ خیز اعلان

datetime 28  جولائی  2019 |

کوئٹہ(این این آئی)جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان نے وفاقی حکومت کو مستعفی ہونے کیلئے اگست تک کی مہلت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر استعفیٰ نہ دیا تو اکتوبر میں پورا ملک اسلام آباد میں ہو گا، الیکشن دھاندلی زدہ تھے تسلیم نہیں کرتے، تمام جماعتوں کے مطالبے کے مطابق نئے انتخابات کرائے جائیں۔ اتوار کو یہاں ملین مارچ سے خطاب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ یہ ہمارا آخری ملین مارچ ہے اور اب ہمارا اگلا قدم اسلام آباد میں ہوگا۔

انہوں نے حکومت کو مہلت دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت اگست میں استعفیٰ دے تو مارچ سے بچ جائیگی، اگر اگست میں استعفیٰ نہ دیا تو اکتوبر میں اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے، پورا ملک اسلام آباد کی طرف مارچ کریگا اور یہ آزادی مارچ ہوگا۔ایک بار پھر انہوں نے کہاکہ 25 جولائی کو عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا گیا، الیکشن کمیشن شفاف انتخابات کرانے میں ناکام رہا جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے تسلیم کیا کہ الیکشن جعلی ہیں، علی الاعلان کہتا ہوں آپ کو عوام پر مسلط کیا گیا ہے یہ جمہوری حکومت نہیں ہے اسے جعلی مینڈیٹ کے ذریعے عوام پر مسلط کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ الیکشن دھاندلی زدہ ہیں اور اسے تسلیم نہیں کرتے، تمام سیاسی جماعتیں چاہتی ہیں کہ نئے انتخابات کرائے جائیں۔ جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کہا کہ ایک طرف کمر توڑ مہنگائی ہے تو دوسری طرف ٹیکسوں کی بھرمار ہے، 50 ہزار روپے کی خریداری پر بھی شناختی کارڈ دینا ہوگا، یہ دستاویزی معیشت نہیں بلکہ غیر ملکی ایجنڈا ہے اور عالمی مالیاتی ادارے ہر گلی کوچے کے دکانداروں کی جیب تک پہنچنا چاہتے ہیں۔اس ناکام حکومت نے ملکی معیشت کا بیڑہ غرق کردیا، ملکی معیشت کی کشتی ہچکولے کھا رہی ہے، بجٹ کے بعد پورے پاکستان کے تاجروں نے حکومت کی معاشی پالیسوں کے خلاف احتجاج کیا اور ملکی تاریخ کی کامیاب ہڑتال کی، دستاویزی معیشت مغربی ایجنڈہ ہے اور عالمی مالیاتی ادارے اس دستاویزی معیشت کے ذریعے گلی محلے کے ہر دکاندار تک پہنچنا  چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نیب مشرف دور میں بھی احتساب کرتا رہا ہے اور ملک کے بچے بچے کو نیب کا کردار معلوم ہے، نیب کبھی ایسے بے نقاب نہیں ہوا جیسے موجودہ دور میں ہوا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…