منگل‬‮ ، 18 اگست‬‮ 2026 

میرے ساتھ کس قدر شرمناک سلوک کیاگیا؟؟رہائی کے بعد سابق وزیراعظم کے مشیر عرفان صدیقی پھٹ پڑے، انتہائی افسوسناک انکشافات

datetime 28  جولائی  2019 |

اسلام آباد/راولپنڈی (این این آئی)اسلام آباد کی مقامی عدالت سے سابق وزیراعظم نواز شریف کے معاون خصوصی عرفان صدیقی کی ضمانت منظور ہونے کے بعد انہیں اڈیالہ جیل سے رہا کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر مہرین بلوچ نے ایک روز قبل عرفان صدیقی کا 14 روزہ عدالتی ریمانڈ منظور کیا تھا اور انہوں نے ہی اتوار کو ان کی ضمانت منظور کی اور انہیں 30 ہزار روپے کے مچلکے جمع کروانے کی ہدایت کی۔عرفان صدیقی کی جانب سے عبدالخالق تھند عدالت میں پیش ہوئے تھے اور

ضمانت کی درخواست جمع کروائی تھی، عدالت کی جانب سے ضمانت کی منظوری کیے جانے کے بعد عرفان صدیقی کی وکلا ٹیم رہائی کا روبکار لے کر اڈیالہ جیل پہنچی،پھر قانونی کارروائی پوری ہونے کے بعد عرفان صدیقی کو اڈیالہ جیل سے رہا کر دیا گیا۔یا اد رہے کہ گذشتہ روز سابق وزیراعظم نواز شریف کے معاون خصوصی اور سینئر کالم نگار عرفان صدیقی کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا تھا اس سے ایک روز قبل ہی عرفان صدیقی کو کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔مسلم لیگ ن کی جانب سے اس فیصلے پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا اور وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے بھی اس حوالے سے کہا تھا کہ یہ فیصلہ جس کسی نے بھی کیا ہے اس نے تحریک انصاف کا فائدہ نہیں کیا۔اعجاز شاہ نے عرفان صدیقی کی گرفتاری کا الزام بھی ن لیگ پر ہی عائد کیا تھا۔رہائی کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے معاون خصوصی اور سینئر کالم نگار عرفان صدیقی نے کہا کہ انہیں گھسیٹ کر گاڑی میں ڈالا گیا اور دہشت گردوں جیسا سلوک کیا گیا۔انہوں نے کہاکہ جس جمہوری حکومت میں انصاف ہو اور جمہوری اقدار کی پاسداری ہو وہاں یہ عمل نہیں ہوسکتا۔عرفان صدیقی نے کہا کہ رات کے پہر میں ان کے گھر کی گھنٹی بجی تو وہ اس وقت بھی کچھ لکھ رہے تھے، جب وہ گھر سے باہر آئے تو درجنوں پولیس اہلکاروں نے گھیرا ہوا تھاجس کے بعد انہیں گھسیٹ کر گاڑی میں ڈالا لیا اور دہشت گردوں جیسا سلوک کیا گیا۔انہوں نے کہاکہ وہ اپنے ساتھ پیش آنے والے اس واقعہ پر بھی ضرور لکھیں گے۔انہوں نے کہاکہ پچھلے 65 برس میں سوائے قلم کے لکھنے کے کچھ نہیں کیا،اب میری عمر 75 برس ہو چکی ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ جیل کے اندر کی کیفیت سنا نہیں سکتا،بیان کرنا تھوڑا مشکل ہے،ہتک آمیز توہین آمیز رویہ تھا،جہاں جس کیفیت میں رکھا رہا،یہ کیا تاریخ رقم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ میں ایک پاکستانی ہوں یہ آئین مجھے آزادی اظہار رائے دیتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں نے جج صاحبہ سے بھی کہا کہ کتنے کیسز آئے ہیں کہ کرایہ نامہ جمع نہیں کرایا،یہ اس پاکستان کی بڑی ہی افسوس ناک کہانی ہے۔بعد ازاں سینئر کالم نگار کا گھر پہنچنے پر فیملی کی جانب سے شاندار استقبال کیا گیا ا سوقع پر بچے اور بوڑھے آبدیدہ ہوگئے جبکہ ان کے بیٹے سینئر کالم نگار کے ساتھ لپٹ گئے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…