پیر‬‮ ، 23 فروری‬‮ 2026 

میرے ساتھ کس قدر شرمناک سلوک کیاگیا؟؟رہائی کے بعد سابق وزیراعظم کے مشیر عرفان صدیقی پھٹ پڑے، انتہائی افسوسناک انکشافات

datetime 28  جولائی  2019 |

اسلام آباد/راولپنڈی (این این آئی)اسلام آباد کی مقامی عدالت سے سابق وزیراعظم نواز شریف کے معاون خصوصی عرفان صدیقی کی ضمانت منظور ہونے کے بعد انہیں اڈیالہ جیل سے رہا کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر مہرین بلوچ نے ایک روز قبل عرفان صدیقی کا 14 روزہ عدالتی ریمانڈ منظور کیا تھا اور انہوں نے ہی اتوار کو ان کی ضمانت منظور کی اور انہیں 30 ہزار روپے کے مچلکے جمع کروانے کی ہدایت کی۔عرفان صدیقی کی جانب سے عبدالخالق تھند عدالت میں پیش ہوئے تھے اور

ضمانت کی درخواست جمع کروائی تھی، عدالت کی جانب سے ضمانت کی منظوری کیے جانے کے بعد عرفان صدیقی کی وکلا ٹیم رہائی کا روبکار لے کر اڈیالہ جیل پہنچی،پھر قانونی کارروائی پوری ہونے کے بعد عرفان صدیقی کو اڈیالہ جیل سے رہا کر دیا گیا۔یا اد رہے کہ گذشتہ روز سابق وزیراعظم نواز شریف کے معاون خصوصی اور سینئر کالم نگار عرفان صدیقی کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا تھا اس سے ایک روز قبل ہی عرفان صدیقی کو کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔مسلم لیگ ن کی جانب سے اس فیصلے پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا اور وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے بھی اس حوالے سے کہا تھا کہ یہ فیصلہ جس کسی نے بھی کیا ہے اس نے تحریک انصاف کا فائدہ نہیں کیا۔اعجاز شاہ نے عرفان صدیقی کی گرفتاری کا الزام بھی ن لیگ پر ہی عائد کیا تھا۔رہائی کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے معاون خصوصی اور سینئر کالم نگار عرفان صدیقی نے کہا کہ انہیں گھسیٹ کر گاڑی میں ڈالا گیا اور دہشت گردوں جیسا سلوک کیا گیا۔انہوں نے کہاکہ جس جمہوری حکومت میں انصاف ہو اور جمہوری اقدار کی پاسداری ہو وہاں یہ عمل نہیں ہوسکتا۔عرفان صدیقی نے کہا کہ رات کے پہر میں ان کے گھر کی گھنٹی بجی تو وہ اس وقت بھی کچھ لکھ رہے تھے، جب وہ گھر سے باہر آئے تو درجنوں پولیس اہلکاروں نے گھیرا ہوا تھاجس کے بعد انہیں گھسیٹ کر گاڑی میں ڈالا لیا اور دہشت گردوں جیسا سلوک کیا گیا۔انہوں نے کہاکہ وہ اپنے ساتھ پیش آنے والے اس واقعہ پر بھی ضرور لکھیں گے۔انہوں نے کہاکہ پچھلے 65 برس میں سوائے قلم کے لکھنے کے کچھ نہیں کیا،اب میری عمر 75 برس ہو چکی ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ جیل کے اندر کی کیفیت سنا نہیں سکتا،بیان کرنا تھوڑا مشکل ہے،ہتک آمیز توہین آمیز رویہ تھا،جہاں جس کیفیت میں رکھا رہا،یہ کیا تاریخ رقم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ میں ایک پاکستانی ہوں یہ آئین مجھے آزادی اظہار رائے دیتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں نے جج صاحبہ سے بھی کہا کہ کتنے کیسز آئے ہیں کہ کرایہ نامہ جمع نہیں کرایا،یہ اس پاکستان کی بڑی ہی افسوس ناک کہانی ہے۔بعد ازاں سینئر کالم نگار کا گھر پہنچنے پر فیملی کی جانب سے شاندار استقبال کیا گیا ا سوقع پر بچے اور بوڑھے آبدیدہ ہوگئے جبکہ ان کے بیٹے سینئر کالم نگار کے ساتھ لپٹ گئے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…