پیر‬‮ ، 23 فروری‬‮ 2026 

روپے کو مصنوعی طاقت دینے پر اسحاق ڈار کو الزام نہ دیں، یہ کام کون کون کرتارہا؟اسد عمراسحاق ڈار کی حمایت میں بول پڑے، حیرت انگیز انکشافات

datetime 28  جولائی  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)سابق وزیر خزانہ اور پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اسد عمر نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام میں جانے کے بعد خرابیاں پیدا ہونا شروع ہوئیں،اگر معاشی فیصلے 2023 کے الیکشن کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے گئے تو حالات 2018 جیسے ہوں گے،روپے کو مصنوعی طاقت دینے پر اسحاق ڈار کو الزام نہ دیں، یہ کام ہر حکمران نے کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف پروگرام میں چلے گئے، اگر نہ جاتے تو بہتر تھا۔

انہوں نے کہا کہ سال کے وسط میں عالمی مارکیٹ کے حالات بھی ایمرجنگ مارکیٹ کیلئے ساز گار تھے اور آئی ایم ایف کے بغیر معاملات بہتر ہو رہے تھے لیکن آئی ایم ایف پروگرام میں جانے کے اعلان کے بعد خرابیاں پیدا ہونا شروع ہوئیں۔انہوں نے کہاکہ پانڈا بانڈ سکوک پر کام ہو رہا تھا لیکن آئی ایم ایف معاہدے کے بعد اسے مؤخر کرنا پڑا، پاکستانی معیشت کو مکمل طور پر بدلنے کا موقع سینسر کیا گیا۔سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کو ساری صورتحال بتائی کیونکہ فیصلہ انہیں کرنا تھا۔اسد عمر نے بتایا کہ وزیراعظم نے کہا میں رسک لینے والا بندہ ہوں لیکن سب کہہ رہے ہیں کہ پروگرام لینا ہو گا۔رکن قومی اسمبلی نے فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) کے پورے انتظام کو کینسر زدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملکی ترقی کے لئے آئندہ نسلوں کی خوشحالی کے فیصلے کرنا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ فیصلہ قوم نے کرنا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ قوم کی خوشحالی کے فیصلوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کی اشرافیہ کو اس ملک پر اعتماد کرنا ہو گا، اور این ایف سی کا ماڈل آئینی ترمیم سے بدلنا ہو گا۔اسد عمر نے کہا کہ اگر معاشی فیصلے 2023 کے الیکشن کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے گئے تو حالات 2018 جیسے ہوں گے۔مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے حوالے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ روپے کو مصنوعی طاقت دینے پر اسحاق ڈار کو الزام نہ دیں، یہ کام ہر حکمران نے کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…