منگل‬‮ ، 18 اگست‬‮ 2026 

سرکاری نوکری کرنے والے صحافیوں کے خلاف خطرے کی گھنٹی بج گئی،عدالت نے بڑا حکم جاری کردیا 

datetime 27  جولائی  2019 |

خیرپور(این این آئی)سرکاری نوکری کرنے والے صحافیوں کے خلاف خطرے کی گھنٹی بج گئی۔تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ سرکٹ بنچ حیدر آبادجسٹس صلاح الدین اورجسٹس عدنان حسین چوہدری کی عدالت میں C.P no. 3343 کے درخواست گذار مرغوب حسین رضوان اور ان کے وکیل جلیل احمد میمن اور خادم حسین سومرو پیش ہوئے،

معزز عدالت سے استدعا کی کہ سرکاری ملازمین جو کہ ابھی تک غیر قانونی طور پر صحافت کررہے ہیں اور معزز عدالت کے احکامات ماننے سے انکاری ہے اور دیگر حکام بھی معزز عدالت کے احکامات پر عمل نہیں کررہے، جس پر معزز ہائی کورٹ آف سندھ سرکٹ بیچ حیدرآباد نے 18 اگست 2017 اور 29 اگست 2017 کے آرڈر پر عمل درآمد نہ کرنے پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے مذکورہ دونوں آرڈر پر  عمل در آمد کرکے 28 آگست 2019 کو رپورٹ سندھ ہائی کورٹ آف سرکٹ بیچ میں جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے تمام اتھارٹیز کو نوٹیس جاری کردیئے ہیں، واضح رہے کہ 29 آگست 2017 اور 18 آگست 2017 کو معزز عدالت نے آرڈر پاس کرچکی ہے کہ کوئی بھی سرکاری ملازم صحافت نہیں کرسکتا اور نہ ہی پریس کلب کی بلڈنگ استعمال کرسکتا ہے اور نہ پریس کلب کا عہدیدار بن سکتا ہے، معزز عدالت نے حکم دیا ہے کہ ان آرڈرز عمل درآمد کر کے ہائی اتھارٹیز اس کی رپورٹ 28 آگست 2019 ڈبل بینچ کے سامنے پیش کریں۔اندروان سندھ کے صحافیوں نے عدالت عالیہ کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ خیرپور۔سکھر،لاڑکانہ،گھوٹکی،نوشہروفیروز،نواب شاہ سمیت دیگر اضلاع میں صحافت کرنے والے سرکاری ملازمین کے خلاف قانونی ایکشن لیتے ہوئے انہیں صحافت یاسرکاری ملازمت کرنے پر عمل در آمد کرایا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…