منگل‬‮ ، 18 اگست‬‮ 2026 

سوشل میڈیا پر متنازعہ پوسٹس کرنے والوں کی بھی شامت، ایف آئی اے نے عوام کو وارننگ جار ی کردی

datetime 25  جولائی  2019 |

حیدرآباد(آن لائن) فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی سائبر ونگ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر سندھ فیض اللہ کوریجو نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ سوشل میڈیا کے استعمال کے دوران انتہائی احتیاط سے کام کیا جائے، سائبر کرائیم میں ملوث افراد کیخلاف پیکا ایکٹ 2016ء کے تحت کارروائی کرکے ان کو سخت سزائیں دی جا رہی ہیں۔ کراچی، لاہور، کوئٹہ، پشاور اور اسلام آباد میں ایڈیشنل ڈائریکٹر تعینات ہیں، جن کی نگرانی میں ملک میں اس وقت 15 سائبر کرائیم سینٹر کام کری رہے ہیں۔ سائبر کرائیم کی صورت میں

فوری طور پر ایف آئی اے سائبر کرائیم ونگ کو روبرو یا ای میل کے ذریعے اطلاع دی جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز جامعہ سندھ میں ”سائبر کرائیم کے قوانین و شہریوں کی ذمیواری“ کے زیر عنوان منعقد کردہ سیمینارہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر شیخ الجامعہ سندھ پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد برفت، ڈی آئی جی حیدرآباد نعیم شیخ، ہسٹری ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر عرفان شیخ، ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز زرین عباسی و دیگر اساتذہ، افسران، ملازمین و طلباء موجود تھے۔ سیمینار کو خطاب کرتے ہوئے فیض اللہ کوریجو نے سائبر کرائیم، ان سے بچاء کے طریقے و دیگر تفصیلات سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے ان تمام ایریاز میں کام کر رہی ہے جہاں سوشل میڈیا کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ توہین رسالت، ریاست مخالف سرگرمیاں، منی لانڈرنگ، تشدد، کاروباری فراڈ، نفرت آمیز تقریریں اور دہشتگردی حساس معاملات ہیں، جن کو روکنے کیلئے کارروائیاں جاری ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر ”دی پریوینشن آف الیکٹرانکس کرائیمس ایکٹ“ (پیکا) 2016ء کے تحت تجاویز کی جانے والی سزاؤں کے حوالے سے بھی تفصیلی طور پر بات کی اور مختلف کیسز کی مثال دیکر حاضرین کی معلومات میں اضافہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پیکا 2016ء پر مکمل طور پر عمل ہونا شروع ہو جائے تو فیس بک، واٹس ایپ، انسٹا گرام، لنکڈ ان و سماجی روابطوں کی دیگر ویب سائٹس کو غلط استعمال میں لانے والے تمام لوگ جیل میں ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات میں ثابت ہوا ہے کہ فیس بک، واٹس ایپ و دیگر سماجی روابط کی ویب سائٹس کا غلط استعمال سرکاری و نجی اداروں کے ملازمین زیادہ کرتے ہیں، جن کو اداروں کے سربراہان سے کوئی نہ کوئی شکایت ہوتی ہے۔

اس موقع پر صدارتی خطاب کرتے ہوئے شیخ الجامعہ سندھ ڈاکٹر برفت نے کہا کہ یہ ایک حیرتناک حقیقت ہے کہ ایک جرم میں کمپیوٹر کو استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ دوسرے کیس میں کمپیوٹر کے خلاف جرم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمپیوٹر کے ذریعے کھلنے والی ویب سائٹس ہیک کرنا کمپیوٹر کے خلاف ہی کرائیم ہے۔ انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا احتیاط سے استعمال کرکے معلومات اور غلط استعمال کرکے سزا پائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ سندھ کے اساتذہ، افسران، ملازمین و طلباء کو سماجی روابط کی ویب سائٹس کو مثبت استعمال کرنا چاہئے اور سائبر کرائیم سے بچنا چاہئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…