پیر‬‮ ، 23 فروری‬‮ 2026 

عمران خان کا میڈیا آزاد ہونے کا دعویٰ غلط ثابت، مریم نواز کی پریس کانفرنس کی خبر اور ٹکرز تک نہیں چلے، میڈیا آزاد ہے تو پھر یہ بلیک آؤٹ کیوں؟ کل واشنگٹن میں ڈیزل ڈیزل کے نعرے لگے اور آج ان کی پارٹی حمایت مانگنے مولانا فضل الرحمان کے گھر پہنچ گئی، کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟ جاوید چودھری کا تجزیہ

datetime 24  جولائی  2019 |

وزیراعظم عمران خان نے کل پیس انسٹی ٹیوٹ میں دعویٰ کیا تھا پاکستان میں میڈیا مکمل آزاد ہے‘ عمران خان نے اس سے پہلے فاکس نیوز کے انٹرویو میں بھی کہا تھا، عمران خان کا یہ دعویٰ آج کچھ گھنٹے بعد غلط ثابت ہو گیا‘ آج مریم نواز نے لاہور میں پریس کانفرنس کی لیکن پاکستان کے کسی چینل نے یہ پریس کانفرنس نہیں دکھائی‘ پریس کانفرنس کی خبر اور ٹکرز تک نہیں چلے‘

چینلز نے اس پریس کانفرنس کا اپنی اپنی ویب سائیٹس اور پیجز پر بھی بلیک آؤٹ کر دیا‘ ملک میں اگر میڈیا آزاد ہے تو پھر یہ بلیک آؤٹ کیوں ہے؟ ریاست یا حکومت کو کانٹینٹ پر اعتراض ہے تو یہ تمام سیاستدانوں کے لیے ریڈ لائینز طے کر دے‘ جو سیاستدان اس پر پاؤں رکھے‘ آپ اسے اسی جگہ روک دیں لیکن مکمل طور پر بلیک آؤٹ کرنا یہ اس آزادی رائے کی توہین ہے جس کے لیے میڈیا اور انسانیت دونوں نے بے شمار قربانیاں دیں‘ معاشرے بڑی مشکل سے اس لیول تک آئے ہیں جہاں یہ ہر قسم کی آواز سن اور سنا سکتے ہیں لیکن آزادی رائے کو یوں روک دینا یہ بنیادی حقوق کے خلاف ہے‘ حکومت کو اس بلیک آؤٹ کا نوٹس ضرور لینا چاہیے‘ آج آپ کسی کو نشانہ بنا رہے ہیں تو کل کو کوئی اور آپ کو بھی نشانہ بنائے گا‘ یہ دنیا ایک ایسی وادی ہے جس میں ہر کسی کو اس کی باز گشت ضرور سنائی دیتی ہے‘ کل عمران خان کی موجودگی میں واشنگٹن میں کیپیٹل ون ارینا میں ڈیزل ڈیزل کے نعرے لگے اور آج ان کی پارٹی چیئرمین سینٹ کے لیے حمایت مانگنے مولانا فضل الرحمن کے گھر پہنچ گئی‘ کیا یہ کھلا تضاد نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…