جمعرات‬‮ ، 28 مئی‬‮‬‮ 2026 

عمران خان کا میڈیا آزاد ہونے کا دعویٰ غلط ثابت، مریم نواز کی پریس کانفرنس کی خبر اور ٹکرز تک نہیں چلے، میڈیا آزاد ہے تو پھر یہ بلیک آؤٹ کیوں؟ کل واشنگٹن میں ڈیزل ڈیزل کے نعرے لگے اور آج ان کی پارٹی حمایت مانگنے مولانا فضل الرحمان کے گھر پہنچ گئی، کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟ جاوید چودھری کا تجزیہ

datetime 24  جولائی  2019 |

وزیراعظم عمران خان نے کل پیس انسٹی ٹیوٹ میں دعویٰ کیا تھا پاکستان میں میڈیا مکمل آزاد ہے‘ عمران خان نے اس سے پہلے فاکس نیوز کے انٹرویو میں بھی کہا تھا، عمران خان کا یہ دعویٰ آج کچھ گھنٹے بعد غلط ثابت ہو گیا‘ آج مریم نواز نے لاہور میں پریس کانفرنس کی لیکن پاکستان کے کسی چینل نے یہ پریس کانفرنس نہیں دکھائی‘ پریس کانفرنس کی خبر اور ٹکرز تک نہیں چلے‘

چینلز نے اس پریس کانفرنس کا اپنی اپنی ویب سائیٹس اور پیجز پر بھی بلیک آؤٹ کر دیا‘ ملک میں اگر میڈیا آزاد ہے تو پھر یہ بلیک آؤٹ کیوں ہے؟ ریاست یا حکومت کو کانٹینٹ پر اعتراض ہے تو یہ تمام سیاستدانوں کے لیے ریڈ لائینز طے کر دے‘ جو سیاستدان اس پر پاؤں رکھے‘ آپ اسے اسی جگہ روک دیں لیکن مکمل طور پر بلیک آؤٹ کرنا یہ اس آزادی رائے کی توہین ہے جس کے لیے میڈیا اور انسانیت دونوں نے بے شمار قربانیاں دیں‘ معاشرے بڑی مشکل سے اس لیول تک آئے ہیں جہاں یہ ہر قسم کی آواز سن اور سنا سکتے ہیں لیکن آزادی رائے کو یوں روک دینا یہ بنیادی حقوق کے خلاف ہے‘ حکومت کو اس بلیک آؤٹ کا نوٹس ضرور لینا چاہیے‘ آج آپ کسی کو نشانہ بنا رہے ہیں تو کل کو کوئی اور آپ کو بھی نشانہ بنائے گا‘ یہ دنیا ایک ایسی وادی ہے جس میں ہر کسی کو اس کی باز گشت ضرور سنائی دیتی ہے‘ کل عمران خان کی موجودگی میں واشنگٹن میں کیپیٹل ون ارینا میں ڈیزل ڈیزل کے نعرے لگے اور آج ان کی پارٹی چیئرمین سینٹ کے لیے حمایت مانگنے مولانا فضل الرحمن کے گھر پہنچ گئی‘ کیا یہ کھلا تضاد نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…