پیر‬‮ ، 23 فروری‬‮ 2026 

عمران خان اور نوازشریف دونوں میں ایک کی عزت اور سیاست خراب ہوگی،سینئر صحافی نے ڈیل نہ ہونے کی حیران کن وجہ بتا دی

datetime 22  جولائی  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں ڈیل نہ ہونے کی حیران کن وجہ بتادی، انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی تحریک حکومت گرانے والی نہیں ہے، انہوں نے کہاکہ یہ تحریک کی ابتدا ہے، دیکھنا یہ ہے کہ اس تحریک میں کتنی عوام شامل ہوتی ہے۔ معروف تجزیہ کار نے کہا کہ حکومت مخالف تحریک میں اپوزیشن نے جلدی کر دی ہے،

اگر یہ تحریک ستمبر میں چلائی جاتی تو عوام بھی اپوزیشن کے ساتھ باہر سڑکوں پر نکل آتی، جب لوگوں کو ٹیکس کے نوٹس مل چکے ہوتے اور مہنگائی کا بوجھ بھی بڑھ چکا ہوتا، انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے ورکرز تو چند ہزار ہوتے ہیں اگر اپوزیشن کی تحریک ستمبر میں چلتی ہے تو اس وقت عوام پر مہنگائی کا بوجھ بڑھ چکا ہو گا جس سے حکومت کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، انہوں نے پروگرام کے دوران کہا کہ عوام حکومت سے ڈیلیور کرنے کی توقع کرتی ہے، حکومت نے احتساب کی پٹاری تو بھر دی ہے لیکن ڈیلیور ابھی تک کچھ نہیں کیا جا رہا، انہوں نے کہا کہ یہ سوال ضرور پیدا ہوں گے، مزید کہا کہ دونوں اطراف کی توقعات غلط ہیں، سینئر تجزیہ کار نے کہا کہ ن لیگ یا میاں صاحب یہ سمجھتے ہیں کہ حکومت ان کو کسی نرم شرط پر رہا کر دے گی تو یہ توقع غلط ہے، اسی طرح اگر عمران خان یہ سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ پیسے دے دیں گے اور پیسوں کے ذریعے ڈیل ہو جائے گی تو یہ خیال بھی غلط ہے،انہوں نے کہا کہ اس طرح یہ دونوں ڈیل نہیں ہو سکتیں، انہوں نے کہاکہ ڈیل اسی صورت میں قابل قبول ہو سکتی ہے کہ نواز شریف پر پیسوں کا الزام بھی نہ آئے اور وہ سیاست میں اِن بھی رہیں اور عمران خان کو بھی سیاسی نقصان نہ اٹھانا پڑے، سہیل وڑائچ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے تو دونوں میں فی الحال ایسی صورت نظر نہیں آتی کہ عزت برقرار رہے، یہ ڈیل نہیں ہو گی کیونکہ اگر ڈیل ہو گی تو دونوں میں سے ایک کی عزت اور سیاست خراب ہو گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…