جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

اب باتیں بنانے یا سستی کی کوئی گنجائش نہیں،ہر افسرشفافیت،ایمانداری،خود احتسابی اورملک و قوم کی خوشحالی کیلئے کام کرے،عثمان بزدار کی افسران کو اہم ہدایات

datetime 20  جولائی  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور(پ ر) وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارنے کہا ہے کہ ہر افسرشفافیت،فعالیت،ایمانداری،خود احتسابی اورملک و قوم کی خوشحالی کیلئے کام کرے۔اب باتیں بنانے یا سستی کی کوئی گنجائش نہیں۔وطن کو عظیم تر بنانے کیلئے پوری قوم کو متحرک کرنا ہوگا۔آج سول سیکرٹریٹ دربارہال میں سرکاری افسروں سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا کہ عوام کی فلاح وبہبود،گڈ گورننس اورمالی شفافیت کیلئے بھر پور کردارادا کرنے والے افسروں پر ناز ہے۔

کپتان کے لئے ٹیم کا انتخاب بے حد اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔میری ٹیم میں لوگ سفارش کی بنا پر نہیں آئے بلکہ خداداد صلاحیتوں کی بدولت ٹیم کا حصہ بنے۔انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب کی نیک نامی اورساکھ بنانے میں کردارادا کرنے والوں کو فراموش نہیں کرسکتا۔پنجاب ملک کے دیگر صوبوں میں ہر لحاظ سے نمایاں نظر آتا ہے۔حکومت کی اچھی یا بری ساکھ بنانے میں پبلک سرونٹ کا کردارکلید ی اہمیت کا حامل ہے۔ملازمین محنت اورایمانداری کا مظاہرہ کرے تو گڈگورننس کا تاثر ابھرتا ہے اوررائے عامہ حکومت کے حق میں ہوجاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ عوامی فلاح وبہبود کے منصوبے اوربہتر ڈلیوری پبلک سرونٹ کی محنت کی مرہون منت ہے۔پاکستان کے سول سروس پیشہ ورانہ مہارت اورفعالیت کے لحاظ سے آج بھی بہترین ہیں۔سروس ڈلیور ی کے امور کو بہتر بنانے کیلئے سول افسروں کے پے پیکیج پر توجہ دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مالی مشکلات کے باوجود پولیس،ڈاکٹروں،انجینئروں اورسول ایڈمنسٹریشن کو پیکیج دیں گے۔ گڈگورننس کیلئے ڈاکٹروں،انجینئروں،پولیس اورایڈمنسٹریشن کو مراعات دے رہے ہیں۔چیف سیکرٹری یوسف نسیم کھوکھر نے اس موقع پرخطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری افسروں کیلئے جتنے موزوں حالات آج ہیں پہلے نہیں تھے۔سرکاری افسران حکومت کے ویژن کو آگے بڑھانے کیلئے توقعات پر پورا اتریں گے۔اجلاس سے سیکرٹری فارسٹ،سیکرٹری اطلاعات و ثقافت،کمشنرز اورڈی سی نے بھی خطاب کیا۔اجلاس میں صوبائی وزراء ہاشم جواں بخت، پیر سید سعید الحسن شاہ اور صوبائی انتظامیہ کے اعلی افسران نے شرکت کی-

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…