بدھ‬‮ ، 19 اگست‬‮ 2026 

ریکوڈک کا فیصلہ تنہا نہیں، دو ججز کے ساتھ بیٹھ کر کیا، وہاں کتنے ہزار ارب ڈالر مالیت کے ذخائر ہیں؟سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے چونکادینے والے انکشافات

datetime 20  جولائی  2019 |

اسلام آباد(این این آئی) سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار چوہدری نے کہا ہے کہ ریکوڈک کا فیصلہ انھوں نے تنہا نہیں، سپریم کورٹ کے دو ججز کے ساتھ بیٹھ کر کیا۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہاکہ ہم جو بھی کام کرتے ہیں آئین و قانون کے مطابق کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ریکوڈک کے معاملے کی تحقیقات1993 سے ہونی چاہیے،

ریکوڈک میں ایک ہزار ارب ڈالر مالیت کے ذخائر ہیں۔سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے کہا کہ ریکوڈک میں جو کرپشن کی گئی، وہ بہت بڑی ہے، ریکوڈک میں دریافت ہوچکی ہے، رپورٹ موجود ہے، یہ کامیابی ہے۔سابق چیف جسٹس نے کہا کہ ججز کے فیصلوں کو چیلنج کرنے سے انارکی پیدا ہوگی، آئین کے تحت سابق جج کسی کمیشن کیسامنے پیش نہیں ہوسکتا۔انھوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اسٹیل مل کے خریداروں کا بھارتیوں کے ساتھ گٹھ جوڑ تھا، اکیس ارب روپے میں فروخت نقصان کا سودا ہوتا۔کلبھوشن یادیو کیس سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ بھارتی جاسوس کو عالمی عدالت سے قونصلر رسائی نہیں ملنی چاہیے تھی۔کلبھوشن کیس میں نظرثانی کامعاملہ پاکستان کی عدالت کرے گی، پاکستان کی عدالت کے فیصلے کودنیا کو ماننا پڑیگا، ملٹری کورٹس کی سزا پر عدالت عظمیٰ سے بھی توثیق کی نظیریں ہیں۔ سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار چوہدری نے کہا ہے کہ ریکوڈک کا فیصلہ انھوں نے تنہا نہیں، سپریم کورٹ کے دو ججز کے ساتھ بیٹھ کر کیا۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہاکہ ہم جو بھی کام کرتے ہیں آئین و قانون کے مطابق کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ریکوڈک کے معاملے کی تحقیقات1993 سے ہونی چاہیے، ریکوڈک میں ایک ہزار ارب ڈالر مالیت کے ذخائر ہیں۔سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے کہا کہ ریکوڈک میں جو کرپشن کی گئی، وہ بہت بڑی ہے، ریکوڈک میں دریافت ہوچکی ہے، رپورٹ موجود ہے، یہ کامیابی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…