بدھ‬‮ ، 14 جنوری‬‮ 2026 

منشیات کے استعمال کا الزام،رانا ثناء اللہ کا اپنے ساتھ وزیراعظم عمران خان کا بھی بلڈ ٹیسٹ کروانے کا مطالبہ

datetime 16  جولائی  2019 |

لاہور( آن لائن)پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما راناثنا اللہ کا عدالت پیشی کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہنا ہے کہ میرے خون کا ٹیسٹ کرایا جائے اگر اس میں سگریٹ کے اثرات نکلیں تو کیس سنے بغیر ہی سزا دے دیں۔انہوں نے مزید کہا کہ نالائق اعظم کا بھی بلڈ ٹیسٹ کیا جائے۔رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ مجھے ابھی تک کیس کا ریکارڈ نہیں ملا۔کل ایک ٹیم نے تفتیش کی ہے۔

تمام تفصیلات مجھے ابھی تک نہیں دی گئیں۔ابھی تک میرا موقف بھی سرکاری سطح پر نہیں لکھا گیا۔رانا ثنا نے جیل میں ملنے والی سہولیات پر کہا کہ میں کسی سہولت نہ ملنے کا شکوہ نہیں کروں گا۔جتنا ظلم کرنا ہے کر لیں۔میں نے سوچ رکھا ہے کہ پاکستان میں ہی رہنا ہے۔میرے حوصلے بلند ہیں لیکن مجھ پر دبا بھی ہے۔یہ ظلم اور ظلم کی دہائی دینے کی بجائے اس للکارنا چاہئیے۔یہ ظالم اپنا عبرتناک انجام بھگتیں گے۔ خیال رہے کہ رانا ثنا اللہ منشیات سمگلنگ کیس میں اے این ایف کی تحویل میں ہیں۔ رانا ثنا اللہ کی گاڑی سے 15کلو ہیروئن برآمد ہوئی تھی۔قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ رانا ثنا اللہ کی اتنی جلدی ضمانت نہیں ہوگی۔ بیرک میں جانے کے فورا بعد ہیگرمی اور حبس کے باعث رانا ثنا اللہ کی طبیعت خراب ہو گئی تھی۔شہریار آفریدی نے اس حوالے سے پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ تقریبا تین ہفتے راناثنااللہ کی گاڑی کو اوبزرو کیا گیا تھا اس کے بعد یہ گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ رانا ثنااللہ سے متعلق ہمارے پاس تمام چیزیں موجود ہیں۔اب کوئی نہیں بچے گا،ہمیں بڑوں بڑوں پر ہاتھ ڈالنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رانا ثنا اللہ کی گاڑی کی تین ہفتے تک نگرانی کی گئی۔شہریار آفریدی نے کہا کہ فیصل آبادمیں ایک گرفتاری ہوئی جس سے ہمیں لیڈز ملی اور آگے کام کیا۔یہ ہیروئنیہاں سیلاہور اور وہاں سے انٹرنیشنل مارکیٹ میں جانا تھی۔ اب رانا ثنا اللہ نے پروڈکشن آرڈر لینے سے انکار کر دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…