اتوار‬‮ ، 22 فروری‬‮ 2026 

پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کے مختلف ممالک میں طوفانی بارشوں نے تباہی مچادی، 180 افراد ہلاک،لاکھوں متاثر

datetime 16  جولائی  2019 |

؁ اسلام آباد( آن لائن)جنوبی ایشیا کے مختلف ممالک میں طوفانی بارشوں نے تباہی مچادی جبکہ گھروں کے بہنے اور مٹی کے تودے گرنے سے 180 افراد ہلاک جبکہ لاکھوں افراد متاثر ہوگئے۔ خطے میں آبپاشی اور زمینی پانی کی فراہمی کے لیے مون سون سیزن اہم ہے اور یہ گرمیوں کے بعد ریلیف کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔تاہم جون سے ستمبر تک وقفے وقفے سے جاری رہنے والی یہ بارشیں ایک مرتبہ پھر بھارت، نیپال، بنگلہ دیش اور آزاد جموں اور کشمیر کے علاقوں میں

تباہی کا باعث بن گئی ہیں اور نشیبی علاقوں میں لوگ، مکانات بہہ گئے ہیں۔بارشوں سے ہونے والے نقصانات کی بات کی جائے تو پیر کو بنگلہ دیش میں 5 بچوں کے ڈوبنے کے بعد ملک میں ہلاکتوں کی تعداد 34 ہوگئی، ان میں 18 افراد وہ ہیں جو بجلی سے ہلاک ہوئے جبکہ 7 افراد خلیج بنگال میں کشتی الٹنے کے بعد بہہ گئے۔ادھر نیپال میں سیلابی پانی کے پیچھے ہونے کے باوجود کم از کم 67 افراد ہلاک ہوگئے، اس حوالے سے سامنے آنے والی تصاویر میں ریسکیو اہلکاروں کو سیلاب میں پھنسے افراد کو باہر نکالتے ہوئے دیکھا گیا۔دوسری جانب ماہرین صحت نے پانی سے ہونے والی ممکنہ بیماریوں پر خبردار کرتے ہوئے بین الاقوامی مدد کا مطالبہ کردیا۔مون سون بارشوں نے جہاں بنگلہ دیش اور نیپال میں تباہی مچائی وہیں بھارت میں تقریبا 50 افراد ہلاک ہوئے اور بارش نے نیپال کی سرحد سے متصل مشرقی ریاستوں آسام اور بہار کو متاثر کیا۔آسام کی انتظامیہ نے سیلابی صورتحال سنگین ہونے پر ریڈ الرٹ جاری کردی کیونکہ پانی بھرنے سے گاں سے رابطہ کٹ گیا جبکہ بڑے ہائی ویز بھی ڈوب گئے۔سیلاب سے اب تک اس ریاست میں 11 افراد ہلاک اور تقریبا 83 ہزار افراد بے گھر ہوئے ہیں۔بھارتی ریاست بہار میں سیلاب کے باعث 24 ہلاکتیں رپورٹ کی جبکہ 25 لاکھ افراد متاثر ہوئے، مرنے والے ان افراد میں 3 بچے بھی شامل ہیں جو کینال میں پانی کی سطح دیکھنے گئے تھے کہ وہ ڈوب گئے۔اس کے علاوہ دیگر 2 افراد سیلابی پانی سے بھرے گڑھے کے

قریب کھیلنے کے دوران ہلاک ہوئے۔قبل ازیں آزاد جموں اینڈ کشمیر میں طوفانی بارش اور سیلاب کے باعث 23 افراد جاں بحق ہوئے اور 120 گھروں کو نقصان پہنچا جبکہ علاقے میں پانی اور بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔علاوہ ازیں اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ اس جاری مون سون سیزن کے نتیجے میں انسانی ضروریات کو دیکھتے ہوئے وہ متاثرہ ممالک کی انتظامیہ کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…