بدھ‬‮ ، 19 اگست‬‮ 2026 

عمران خان کی حکومت میں مرنا بھی مشکل ،قبروں پر 1500روپے تک ٹیکس عائد کرنے کی تیاریاں

datetime 16  جولائی  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) صوبائی دارالحکومت لاہور میں نئی قبروں پر فی تدفین ایک ہزار سے 1500 روپے تک ٹیکس لگانے کی تجویز،لاہور میٹرو پولیٹن کارپوریشن نے اپنے زیر انتظام آنے والے قبرستانوں میں ٹیکس کی تجاویز منظوری کیلئے مقامی حکومت کو بھجوا دی ہے۔

نجی ٹی وی کے مطابق زیر غور تجویز میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ٹیکس سے اکٹھی ہونے والی رقم کو قبرستانوں کی دیکھ بھال کے لیے خرچ کیا جائے گا۔عام طور پر قبرستان میں جگہ کا کرایہ اور تدفین کے انتظامات ملا کر تقریباً 10 ہزار روپے تک اخراجات آتے ہیں لیکن اب یہ ٹیکس بھی عوام کو دینا پڑے گا۔ اس حوالہ سے باقاعدہ ایک مراسلہ بھجوایا گیا ہے جس کے تحت قبرستانوں پر ایک کمیٹی بنائی جائے گی۔ کمیٹی کی صدارت چیئرمین کریں گے جس میں باقاعدہ تدفین کے گھنٹے سمیت فاتحہ خوانی کرنے والوں کےلیے بھی وقت مقرر کیا جائے گا۔مراسلے کے مطابق بچوں کی قبر پر ہزار روپے اور بڑوں کی قبر پر 1500 روپے ٹیکس ہوگا۔ فاتحہ خوانی کرنے والے صبح ساڑھے 8 بجے سے شام ساڑھے 5 بجے تک قبرستان آسکیں گے جبکہ مقررہ وقت کے بعد قبرستان میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔ کمیٹی قبر کی گہرائی، لمبائی اور چوڑائی کا بھی تعین کرے گی۔واضح رہے کہ ان دنوں مختلف کوالٹی کے کفن کی قیمت بھی ایک ہزار سے شروع ہو کر 3ہزار تک پہنچ گئی ہے ۔ اپنے پیاروں کی تدفین کیلئے قبر کا حصول بھی کسی معرکہ سر کر نے سے کم نہیں ، جن کیلئے نوٹوں کے ساتھ ساتھ تعلقات کی بھی ضرورت ہوتی ہے ۔

تدفین کا سامان فروخت کرنے والے دکانداروں نے کہا ہے کہ مہنگائی سے ان کا کاروبار بھی متاثر ہواہے ، عوام کیلئے اپنے پیاروں کی تدفین کیوں مشکل ہوتی جارہی ہے ،حکمران اگر زندگی آسان نہیں کر سکتے تو کم از کم مرنا تو آسان کردیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…