جمعرات‬‮ ، 09 اپریل‬‮ 2026 

کیا نواز شریف کی سزا کا فیصلہ کالعدم ہو جائے گا؟معروف قانون دان نے حقائق سامنے رکھ دیے

datetime 12  جولائی  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)معروف قانون دان اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر رشید اے رضوی نے کہا ہے کہایسا نہیں ہوتا کہ اگر کوئی جج متنازع ہو جائے تو اس کے فیصلے فوری طور پر کالعدم قرار دے دیے جائیں،عوامی عدالت تو جج صاحب کے فیصلے کو کالعدم قرار نہیں دے سکتی،مسلم لیگ ن کا کام عدلیہ کو بدنام کرنا تھا،جو وہ کر رہے ہیں،ان کو متعلقہ فورم سے رجوع کرنا چاہیے تھا۔ لوگوں کا عدلیہ پر اعتماد کم ہورہاہے، جج کی ویڈیوکا معاملہ اب سپریم کورٹ میں آگیاہے،

اب اسلام آباد بھی اس وقت تک آگے نہیں بڑھے گی جب تک سپریم کور ٹ اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کرتی۔برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر رشید اے رضوی نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں جو چیزیں ابھی تک سامنے آئی ہیں ان میں سے چند چیزوں کا جج ارشد ملک نے اقرار کیا ہے اور چند باتوں سے انکار کیا ہے، اس پر جامع تحقیقات ہونی چاہیں کیونکہ اس کی بڑی سزا بھی ہو سکتی ہے جس میں ان کی برطرفی بھی شامل ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ان پر الزامات ثابت ہو جائیں تو ان کے فیصلوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہونگے،یہ مقدمہ کتنا سنگین ہے؟اس کا فیصلہ تو اعلی عدالت ہی کرے گی۔رشید اے رضوی نے کہا کہ ان کے فیصلوں کو کالعدم قرار دینا کا انحصار ایپلٹ کورٹ پر ہے کہ وہ کس انداز سے اور کس حد تک لے جاتی ہے؟ کیا وہ اس کو مس ٹرائل قرار دیتی ہے یا ری ٹرائل کا حکم؟ اس کا دارومدار اپیل کنندہ یعنی مسلم لیگ (ن) پر بھی ہے کہ کیا وہ اس معاملے کو اعلی عدالت لے کر جاتے ہیں کیونکہ انھوں نے ابھی تک اس معاملے کو اعلی عدالت کے دائرہ کار میں پیش نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ اپیل کنندہ کا تو موقف ہے کہ انھوں نے اپنا مقدمہ عوامی عدالت میں دے دیا ہے،لیکن عوامی عدالت تو جج صاحب کے فیصلے کو کالعدم قرار نہیں دے سکتی،مسلم لیگ کا کام عدلیہ کو بدنام کرنا تھا،جو وہ کر رہے ہیں جبکہ ان کو متعلقہ فورم سے رجوع کرنا چاہیے تھا۔بعد ازاں نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے

رشید اے رضوی نے کہا کہ لوگوں کا عدلیہ پر اعتماد کم ہورہاہے، جج کی ویڈیوکا معاملہ اب سپریم کورٹ میں آگیاہے، اب اسلام آباد بھی اس وقت تک آگے نہیں بڑھے گی جب تک سپریم کور ٹ اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کرتی۔ اگر سپریم کورٹ نے اجازت دی تو پھر ہائیکورٹ اس کو سن سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسری بات نواز شریف اور ان کی ٹیم پر ہے کہ وہ شواہد کے

معاملے میں کہاں تک جانا چاہتے ہیں؟جج صاحب کی طرف سے بھی بڑے الزامات سامنے آگئے ہیں لیکن یہ اس پر سوالات اٹھتے ہیں کہ جج صاحب نے اس وقت بات کیوں نہیں کی جب ان کورشوت کی پیشکش کی جارہی تھی؟ اس لئے اس معاملے کوٹائٹل کرنا بہت ضروری ہے۔ اس وقت لوگوں کا عدلیہ پر اعتماد کم ہورہا ہے اور یہ بہت خطر ناک ہے، اس کے لئے ضروری ہے کہ جج صاحبان، وکلاء، میڈیا اور سول سوسائٹی ملک کر اس عدالتی نظام کوبچائیں ورنہ صورتحال بہت خراب ہوجائیگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…