اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

”اخبار نویس آزادی رائے کو سمجھتے ہی نہیں ہیں، آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ میں جرائم پیشہ لیڈروں کی وکالت کروں، کل سے ایک آدمی چیخ چیخ کر کہہ رہاہے کہ رانا ثناء اللہ بے قصور ہے“، ہارون رشید

datetime 2  جولائی  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) معروف و سینئر صحافی ہارون رشید نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں پروڈکشن آرڈر پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ بالکل ٹھیک فیصلہ ہے، یہ بڑی اچھی روایت ہے کہ اگر کوئی پارلیمنٹ کا ممبر گرفتار ہو تو اس کو لایا جائے اسمبلی میں، مگر یہ کریمنلز کے لیے نہیں ہونا چاہیے، اگر کریمنلز چارجز ہیں، منی لانڈرنگ کی ہے، منی لانڈرنگ بہت بڑا جرم ہے، قتل سے بڑا جرم ہے،

ملک کا پیسہ باہر بھیجنا اور پھر لوٹ مار کرکے آپ یہاں کی عوام کا حق مار رہے ہیں، آپ ملک میں غربت کا اضافہ کر رہے ہیں اور لوگوں کو بھوکا مار رہے ہیں، اس کے بعد آپ کا حق ہے اس سے بھی زیادہ افسوسناک پہلو ہے۔ جب اراکین پارلیمنٹ اسمبلی میں آتے ہیں اور اخبار نویس حق سمجھتے ہیں کہ ان کا انٹرویو کریں، یہ بڑی تعجب خیز اور صدمے کی بات ہے، پھر کچھ لوگ اس طرح کے مضامین لکھتے ہیں اور پھر ٹی وی پر کہتے ہیں کہ دیکھو کیسا بہادر آدمی ہے، ڈاکو اس سے زیادہ بہادر ہوتا ہے پھر کیا ڈاکوؤں کی تعریف کی جائے، چور اس سے بھی زیادہ باہمت ہوتے ہیں جو رات کی تاریکی میں دیواریں پھلانگتے ہیں، دیواریں توڑنے ہیں اور اپنی جان خطرے میں ڈال کر دو چار دس ہزار کی چوری کرتے ہیں کبھی زیادہ بھی کرتے ہیں، یہ معاشرے کا مسئلہ ہے، معاشرے کی کوئی ویلیوز ہی نہیں ہیں، اور اخبار نویس آزادی کا مطلب سمجھتے ہی نہیں ہیں، آزادی کا مطلب ہے مظلوم اور مجبور کی مدد کی جائے سچ بولا جائے، جس کو تکلیف دی جا رہی ہے اس کے حق میں کھڑے ہوں، آزادی کا یہ مطلب نہیں کہ جو میرا دل چاہتا ہے وہ لکھوں اور جرائم پیشہ لیڈروں کی وکالت کروں اور حکومت بھی اگر غلط کرتی ہے اور بہت کچھ غلط کرتی ہے تو اس کے خلاف بات کرنی چاہیے، حدود اور سلیقے سے کرنی چاہیے۔ اب کل سے رانا ثناء اللہ کو پکڑا ہوا ہے، کیا پتہ وہ مجرم ہے یا نہیں، اس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں،

ایک آدمی چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ وہ آدمی معصوم ہے اس کے ساتھ بڑا ظلم ہو رہا ہے، ایک آدمی چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ وہ قصور وار ہے، بھائی تمہیں کس نے بتایا کہ یہ بے قصور ہے یا آپ کو کس نے بتایا کہ وہ قصور وار ہے۔ یہ کوئی آزادی نہیں ہے، آزادی ڈسپلن کے ساتھ ہوتی ہے، جو قوم یا ذاتی طور پر کوئی ڈسپلن قبول نہیں کرتا اس کی آزادی بھی بے معنی ہے اور اس کی آزادی میں شر ہے جس سے معاشرہ بیمار ہوتا ہے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…