جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

”اخبار نویس آزادی رائے کو سمجھتے ہی نہیں ہیں، آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ میں جرائم پیشہ لیڈروں کی وکالت کروں، کل سے ایک آدمی چیخ چیخ کر کہہ رہاہے کہ رانا ثناء اللہ بے قصور ہے“، ہارون رشید

datetime 2  جولائی  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) معروف و سینئر صحافی ہارون رشید نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں پروڈکشن آرڈر پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ بالکل ٹھیک فیصلہ ہے، یہ بڑی اچھی روایت ہے کہ اگر کوئی پارلیمنٹ کا ممبر گرفتار ہو تو اس کو لایا جائے اسمبلی میں، مگر یہ کریمنلز کے لیے نہیں ہونا چاہیے، اگر کریمنلز چارجز ہیں، منی لانڈرنگ کی ہے، منی لانڈرنگ بہت بڑا جرم ہے، قتل سے بڑا جرم ہے،

ملک کا پیسہ باہر بھیجنا اور پھر لوٹ مار کرکے آپ یہاں کی عوام کا حق مار رہے ہیں، آپ ملک میں غربت کا اضافہ کر رہے ہیں اور لوگوں کو بھوکا مار رہے ہیں، اس کے بعد آپ کا حق ہے اس سے بھی زیادہ افسوسناک پہلو ہے۔ جب اراکین پارلیمنٹ اسمبلی میں آتے ہیں اور اخبار نویس حق سمجھتے ہیں کہ ان کا انٹرویو کریں، یہ بڑی تعجب خیز اور صدمے کی بات ہے، پھر کچھ لوگ اس طرح کے مضامین لکھتے ہیں اور پھر ٹی وی پر کہتے ہیں کہ دیکھو کیسا بہادر آدمی ہے، ڈاکو اس سے زیادہ بہادر ہوتا ہے پھر کیا ڈاکوؤں کی تعریف کی جائے، چور اس سے بھی زیادہ باہمت ہوتے ہیں جو رات کی تاریکی میں دیواریں پھلانگتے ہیں، دیواریں توڑنے ہیں اور اپنی جان خطرے میں ڈال کر دو چار دس ہزار کی چوری کرتے ہیں کبھی زیادہ بھی کرتے ہیں، یہ معاشرے کا مسئلہ ہے، معاشرے کی کوئی ویلیوز ہی نہیں ہیں، اور اخبار نویس آزادی کا مطلب سمجھتے ہی نہیں ہیں، آزادی کا مطلب ہے مظلوم اور مجبور کی مدد کی جائے سچ بولا جائے، جس کو تکلیف دی جا رہی ہے اس کے حق میں کھڑے ہوں، آزادی کا یہ مطلب نہیں کہ جو میرا دل چاہتا ہے وہ لکھوں اور جرائم پیشہ لیڈروں کی وکالت کروں اور حکومت بھی اگر غلط کرتی ہے اور بہت کچھ غلط کرتی ہے تو اس کے خلاف بات کرنی چاہیے، حدود اور سلیقے سے کرنی چاہیے۔ اب کل سے رانا ثناء اللہ کو پکڑا ہوا ہے، کیا پتہ وہ مجرم ہے یا نہیں، اس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں،

ایک آدمی چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ وہ آدمی معصوم ہے اس کے ساتھ بڑا ظلم ہو رہا ہے، ایک آدمی چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ وہ قصور وار ہے، بھائی تمہیں کس نے بتایا کہ یہ بے قصور ہے یا آپ کو کس نے بتایا کہ وہ قصور وار ہے۔ یہ کوئی آزادی نہیں ہے، آزادی ڈسپلن کے ساتھ ہوتی ہے، جو قوم یا ذاتی طور پر کوئی ڈسپلن قبول نہیں کرتا اس کی آزادی بھی بے معنی ہے اور اس کی آزادی میں شر ہے جس سے معاشرہ بیمار ہوتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…