ہفتہ‬‮ ، 21 فروری‬‮ 2026 

وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب نے گیس و بجلی کے نرخوں میں اضافے کی ذمہ داری مسلم لیگ (ن) کی حکومت پر ڈال دی، حیرت انگیز دعوے

datetime 29  جون‬‮  2019 |

اسلام آباد (آن لائن) وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب کا کہنا تھا کہ گیس و بجلی کے نرخوں میں اضافے کی ذمہ داری مسلم لیگ (ن) کی حکومت پر ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ (ن) نے توانائی کے شعبے میں بارودی سرنگیں نصب کیں۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمر ایوب نے کہا کہ ‘آج بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی وجوہات سامنے لانا چاہتا ہوں، (ن) لیگ کی حکومت نے توانائی کے شعبے میں بارودی سرنگیں نصب کیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت کے مطابق 300 یونٹ والے 75 فیصد صارفین پر کسی قسم کا بوجھ نہیں پڑے گا، 300 سے زائد یونٹ والے صارفین پر اضافے کا 50 فیصد یعنی 1.49 روپے فی یونٹ بوجھ پڑے گا۔عمر ایوب کا کہنا تھا کہ ٹیوب ویلز کے صارفین کے لیے 54 فیصد حکومتی سبسڈی رکھ رہے ہیں اور ٹیوب ویلز صارفین کو تحفظ دے رہے ہیں، جبکہ چھوٹے دکانداروں پر مشتمل کمرشل سیکٹر کے 95 فیصد صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں کوئی اضافہ نہیں کیا جارہا۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت 300 یونٹ تک استعمال کرنے والے صارفین کو 217 ارب روپے کی سبسڈی دے رہی ہے، یہ ٹیرف 18 ماہ کے بعد سسٹم سے نکل جائے گا، اس کے بعد فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمتوں میں رد و بدل ہوگا۔انہوں نے کہا کہ برآمدی صنعتوں کے لیے موجودہ سہولتیں برقرار رکھ رہے ہیں تاکہ ملکی برآمدات میں اضافہ ہو۔وزیر توانائی نے کہا کہ ملک کے 80 فیصد فیڈرز پر لوڈشیڈنگ ختم کردی گئی ہے، اووربلنگ پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہے ہیں جبکہ بلوچستان کے تمام فیڈرز پرمزید 3 گھنٹے بجلی کی فراہمی میں اضافہ کردیا گیا ہے۔گیس کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ‘سب سے کم گیس استعمال کرنے والوں کے لیے اضافہ نہیں ہو رہا جو کْل صارفین کا 95 فیصد ہیں، نان فروشوں کے لیے بھی گیس کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کر رہے جبکہ دیگر گیس صارفین کے لیے بھی نرخوں میں کم اضافہ کر رہے ہیں۔’ان کا کہنا تھا کہ گیس کے شعبے میں خرابیاں دور کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہے ہیں، ناقص اور پرانے گیس گیزر کے استعمال سے سسٹم پر لوڈ پڑتا ہے جسے روکنے کے لیے آگاہی مہم چلا رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…