ہفتہ‬‮ ، 21 فروری‬‮ 2026 

حکومت پاکستان نے ملک میں چالیس سال طویل عرصہ تک قیام پذیر افغان مہاجرین کو خوشخبری سنادی،بڑا فیصلہ

datetime 29  جون‬‮  2019 |

کوہاٹ(این این آئی)حکومت پاکستان نے ملک میں چالیس سال طویل عرصہ تک قیام پذیر افغان مہاجرین کے قیام کی مدت میں مزید ایک سال 30 جون 2020 تک توسیع کردی۔توسیع کے فیصلے پر اقوام متحدہ کے اداہ برائے مہاجرین نے حکومت پاکستان کی تعریف کی ہے۔گزشتہ روز وزارت سیفران نے باضابطہ اعلامیہ جاری کیا ہے جس کے مطابق افغان مہاجرین کے قیام کی مدت میں مزید ایک سال 30 جون 2020 تک توسیع کردی گئی۔

باخبر ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے اپنی حکومت کے اس فیصلے سے پاکستان کے دوروزہ دورہ پر آئے ہوئے افغان صدر محمداشرف غنی کو آگاہ کردیا جس پر افغان صدر نے اْن کا شکریہ اداکیا۔افغان مہاجرین کے قیام کی مدت آج 30 جون 2019 کو ختم ہورہی تھی۔وزارت سیفران نے افغان مہاجرین کے قیام میں توسیع کی سمری وفاقی کابینہ میں منظوری کے لئے پیش کی تھی جس کی منظوری کے بعد حکومت نے باضابطہ اعلامیہ جاری کیا۔ ادھرگزشتہ روز اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR)نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں حکومت پاکستان کے اس فیصلے کو قابل ستائش قراردیتے ہوئے تعریف کی گئی ہے۔ بیان میں کہا گیاہے کہ پاکستانی حکومت اور عوام نے چار دہائیوں تک افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کرکے اعلیٰ مثال قائم کی ہے۔بیان کے مطابق پاکستان میں ادارے کی کنڑی سربراہ مس روینڈرینی مینکیدیوایلا نے کہا ہے کہ اس فیصلے کے باعث افغان مہاجرین میں تشویش اور غیریقینی کا خاتمہ ہوجائے گا۔اْنہوں نے مزیدکہا کہ عالمی برادری سے افغان مہاجرین کی امداد اورافغان مہاجرین کی وطن واپسی پروگرام کے لئے پاکستان کی پالیسیوں کی حمایت جاری رکھی جائے گی۔واضح رہے کہ پاکستان  میں جون 2019 تک 2 لاکھ 10 ہزار4 سوسے زائد افغان خاندان مقیم ہیں جہاں رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی تعداد14 لاکھ 5 ہزار7سوسے زائدہے جن میں سب سے زیادہ  صوبہ خیبرپختونخوا میں 8 لاکھ17 ہزار‘صوبہ بلوچستان میں 3 لاکھ 23 ہزار‘ صوبہ پنجاب میں ایک لاکھ 64 ہزار‘صوبہ سند ھ میں 64 ہزار‘ دارالحکومت اسلام آباد میں 33 ہزار اور آزادکشمیر و گلگت/بلتستان میں 4 ہزار افغان مہاجرین مقیم ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…