اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

”یہ ہمارے گھر کے باہر ٹکٹ لینے کیلئے بیٹھا ہوتا تھا“ حماد اظہر کا شیخ روحیل اصغر پر طنز، کھری کھری سنا دیں

datetime 28  جون‬‮  2019 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) قومی اسمبلی کے اجلاس میں حماد اظہر نے اپنی دھواں دھار تقریر میں کسی کو بھی نہ بخشا، انہوں نے شیخ روحیل اصغر کے بارے میں کہا کہ میرے والد صاحب جب ق لیگ کے صدر تھے تو سب سے پہلے یہ ٹکٹ لینے آیا تھا جس پر قومی اسمبلی میں قہقہے لگ گئے، حماد اظہر نے مزید کہا کہ یہ میرے گھر کے باہر بیٹھا رہتا تھا، انہوں نے کہا کہ میرا منہ نہ کھلوائیں یہاں پر بڑے لوگ بیٹھے ہیں جن کا میں پردہ نہیں کھولنا چاہتا،

بڑے پردہ نشین بیٹھے ہیں میں نام نہیں بولنا چاہتا، جو مفرور وزیر خزانہ جیل سے نکلنے کے بعد نواز شریف کے بارے میں کہتا تھا وہ بھی میرے سینے میں دفن ہے۔ واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے عمران خان کی موجودگی وزیر اعظم کوسلیکٹیڈ کہہ دیا جس پر حکومتی ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور شورشرابہ کرتے ہوئے شدید احتجاج کیا جس کے جواب میں اپوزیشن ارکان نے بھی جوابی نعرے لگائے،شدید احتجاج کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی نے سلیکٹڈ لفظ حذف کرادیا۔ جمعرات کو قومی اسمبلی کااجلاس وقفہ کے بعد دوبارہ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت ہوا جس میں شہباز شریف نے خطاب کے دوران عمران خان کی موجودگی میں وزیر اعظم کو سلیکٹڈ کہہ دیا جس کے بعد حکومتی ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور شور شرابہ شروع کر دیا، حکومتی ارکان نے گلی گلی میں شور ہے شہباز شریف چور کے نعرے لگائے تاہم حکومتی ارکان کے شدید احتجاج کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہاکہ آپ یہ لفظ استعمال نہیں کر سکتے اس لفظ پر ایوان میں پابندی ہے۔انہوں نے کہاکہ لفظ سلیکٹڈ حذف کرتا ہوں۔اجلاس کے دور ان حکومتی ارکان کے جواب میں اپوزیشن ارکان نے بھی حکومت اوروزیر اعظم مخالف نعرے بازی کی۔اجلاس کے در ان حکومتی چیف وہپ اپوزیشن بینچوں پر پہنچ گئے، نعرے بازی کرنے والے محسن شاہ نواز اور مریم اورنگزیب کو نشستوں پر بیٹھے کی درخواست کرتے رہے۔

اپوزیشن نے جواب دیاکہ پہلے حکومتی ارکان کو خاموش کرائیں۔ شہباز شریف کے بعد حماد اظہر نے اظہار خیال کیا تو اپوزیشن ارکان نے جھوٹا جھوٹا کے نعرے لگائے۔قومی اسمبلی میں اظہار خیال شہباز شریف نے کہاکہ ڈالر کی قدر میں ایک روپے اضافے سے قومی خزانے پر 100 ارب قرضہ بڑھتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے ایل این جی کے مہنگے منصوبے نہیں لگائے۔ انہوں نے کہاکہ جب ہم نے یہ منصوبے شروع کئے تو نیپرا کا ریٹ ساڑھے دس سینٹ تھا ہم نے 6.2سینٹ کردیا۔ انہوں نے کہاکہ ڈیفنس بجٹ 9.7 بلین ڈالر سے کم ہو کر 6.7 بلین ڈالر رہ گیا۔ انہوں نے کہاکہ کسان مر گیا مزدور مر گیا،انہوں نے غربت ختم کرنی تھی غریبوں کو مارنے کا پروگرام بنا لیا۔حماد اظہرنے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ اپوزیشن قیادت پرشدید تنقید کی اور کہاکہ اب یہ ملک فالودے اور پاپڑ والوں سے نہیں چل سکتا،اب ملک بے نامی پر نہیں چل سکتا۔ انہوں نے کہاکہ دس ارب ڈالر زرمبادلہ کم ہوا حساب کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…