ہفتہ‬‮ ، 30 مئی‬‮‬‮ 2026 

لیفٹیننٹ حشام نصیر کی فوجی عدالت سے سزائے موت کیخلاف اپیل،سند ھ ہائی کورٹ نے بڑا حکم جاری کردیا

datetime 28  جون‬‮  2019 |

کراچی (این این آئی)سندھ ہائیکورٹ نے لیفٹیننٹ حشام نصیر کی فوجی عدالت سے سزائے موت کیخلاف حکم امتناع میں توسیع کرتے ہوئے چیف آف نیول اسٹاف اور جیک برانچ سے حکمنامہ طلب کر لیا۔جسٹس ایس حسن اظہر رضوی اور جسٹس محمد سلیم جیسر پر مشتمل ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ کے روبرو لیفٹیننٹ حشام نصیر کی فوجی عدالت سے سزائے موت کے حکم کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی تو حکومت نے ایک بار پھر ان  کیمرہ ٹرائل کی درخواست کردی۔

عدالت نے ریمارکس دیے حکومت پہلے عدالت کے حکم کی تعمیل کرے، اسکے بعد کوئی درخواست دے۔درخواست گزار کے وکیل محمود اے قریشی نے موقف اختیار کیا کہ معاملے کی حساسیت پر نہیں صرف قانونی نکات پر بحث کرونگا، فوجی عدالت کی کارروائی، فیصلے اور وجوہات کی تحریری نقول فراہم نہیں کی جارہیں، حشام نصیر کو 11 ماہ لاپتہ بھی رکھا گیا۔جیک برانچ کے لا افسر نے موقف میں کہا کہ یہ نیشنل سیکیورٹی کا معاملہ ہے کیس اوپن کورٹ میں نہ سنا جائے۔ وکیل صفائی نے موقف اپنایا کہ یہ کونسا نیشنل سیکیورٹی کا مسئلہ ہے ہم تو قانونی نکات پر بحث کررہے ہیں۔عدالت نے ریمارکس دیے دیکھنا یہ ہے کہ آرٹیکل 10 اے کے تحت حشام کو شفاف ٹرائل کا موقع دیا گیا یا نہیں، پاک بحریہ کے جواب میں کہا گیا ہے کہ مجرم حشام نصیر کو صفائی کا مکمل موقع دیا گیا اور سزا کے بعد اپیل کا بھی موقع دیا گیا۔ نمائندہ جیک برانچ نے کہا کہ ملٹری کورٹ کے فیصلے میں محض یہ لکھا جاتاہے ملزم مجرم پایا گیا۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کا طلب کردہ ریکارڈ موجود ہے تاہم چیمبر میں پیش کرنا چاہتے ہیں، ان حالات میں مناسب ہوگا کہ وہی بینچ اس معاملے کا جائزہ لے جس نے حکم جاری کیا تھا۔عدالت نے چیف آف نیول اسٹاف اور جیک برانچ سے حکمنامہ طلب کرتے ہوئے سماعت 27 اگست تک ملتوی کردی اور سزائے موت پر عملدرآمد کیخلاف حکم امتناع میں بھی توسیع کردی۔حشام نصیر پر پاکستان نیوی کے بحری جہاز پر حملے میں دہشتگردوں سے تعاون کا الزام ہے۔ فوجی عدالت نے اس الزام میں لیفٹیننٹ حشام نصیر کو سزائے موت سنائی تھی۔



کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…