ہفتہ‬‮ ، 21 فروری‬‮ 2026 

ملک کو توڑنا نہیں چاہتے مگر ملک میں غلام کی حیثیت سے بھی رہنے کیلئے تیار نہیں،محمود خان اچکزئی شدید مشتعل، انتہائی خطرناک اعلان،سنگین الزامات عائد

datetime 25  جون‬‮  2019 |

کوئٹہ(آن لائن)پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ملک کو چلانے کا واحد راستہ آئین کی بالادستی اور جمہوریت کی مضبوطی ہے جس طرح ملک چلا یا جارہا ہے اس طرح ملک نہیں چلا یا جاتا ملک چلانا سیاسی جماعتوں کا کام ہے کسی ادارے کی مداخلت کو برداشت نہیں کرینگے جہاں بھی ظلم ہوگا ہم ان کے خلاف ہوں گے ہم ان کیخلاف ہونگے ملک کو توڑنا نہیں چاہتے مگر ملک میں غلام کی حیثیت سے بھی رہنے کیلئے تیار نہیں ہیں ملک کو قومی کا قید خانہ بنا دیا

اگر اس قید خانے کو سونے کا بھی بنا دیا جائے تو بھی قید خانے میں کوئی اپنی مرضی سے رہنے کیلئے تیار نہیں ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے غیر ملکی خبر رساں ادارے سے بات چیت کرتے ہوئے کیا محمود خان اچکزئی نے کہا کہ قومی اسمبلی میں ہر ممبر کوبولنے کا حق ہے اور پروڈکشن آڈر پرہر ممبر کا حق بنتا ہے اسپیکر مہربانی کر کے پرڈکشن آرڈر جاری کرے اگر علی وزیر اورمحسن داوڑ کی پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کئے تو پشتون تاریخ کبھی بھی معاف نہیں کرینگے اگر پاکستان میں جمہوری اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی تو اس سے مزید مسائل پیدا ہونگے ملک کو چلانے کا واحد راستہ جمہوریت ہے دنیا جہاں نے ترقی کی ہے انہوں نے ملک میں جمہوریت کو مضبوط کیا اور تمام ادارے اپنے اپنے حدود میں رہ کر کام کررہے ہیں مگر بد قسمتی سے اس ملک میں ہر ادارہ حد سے تجاوز کررہی ہے جس کی وجہ سے یہاں مسائل حل نہیں ہورہے پارلیمنٹ کو چلانے کیلئے حقیقی معنوں میں ان کو طاقت کا سرچشمہ بنا نا ہوگا اگر پارلیمنٹ مضبوط نہیں ہونگے تو جمہوری ادارے کبھی بھی مضبوط نہیں ہوسکتے آل پارٹیز کانفرنس میں جو بھی فیصلہ ہوگا اس کو دیکھا جائے گا ملک کو چلانے کیلئے سیاسی جماعتوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اس وقت ملک بحرانوں کا شکار ہے معاشی حالات بھی ٹھیک نہیں ہیں انہوں نے کہا کہ پاکستان خود اور خطہ خطرے میں ہے ان حالات میں اگر پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ محکوم اقوام یا پنجاب کے جمہوری اقوام نے

اگر تھوڑی بھی غلطی کی تو یہ ملک نہیں چلے گا انہوں نے کہا کہ جب تک انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیا جاسکتا اس وقت تک معاشرے میں ترقی نہیں آئے گی انصاف کے بغیر میاں بیوی کا رشتہ بھی نہیں چل سکتا تو ملک کیسا چلے گا اگر آئین چلنے کے قابل ہے تو بسم اللہ نہیں تو ایک نا آئین نیا عمرانی معاہدہ ہونا چاہیے انہوں نے کہا کہ خطے میں امن ترقی اور خوشحالی لانے کیلئے افغانستان میں سب کو امن کا کردارادا کرنا ہوگا جب تک افغانستان میں امن نہیں ہوگا اس وقت تک خطے میں امن نہیں آئے گی انہوں نے کہا کہ ملک کو چلانے کا واحد راستہ آئین کی بالادستی اور جمہوریت کی مضبوطی ہے جس طرح ملک چلا یا جارہا ہے اس طرح ملک نہیں چلا یا جاتا ملک چلانا سیاسی جماعتوں کا کام ہے کسی ادارے کی مداخلت کو برداشت نہیں کرینگے جہاں بھی ظلم ہوگا ہم ان کے خلاف ہوں گے ہم ان کیخلاف ہونگے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…