اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

نواز شریف نے ضمانت پر رہائی کیلئے آخری طریقہ بھی آزمانے کا فیصلہ کر لیا، قانونی ٹیم کو ہدایات جاری

datetime 22  جون‬‮  2019 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ضمانت منسوخ ہو جانے کے بعد سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، انہوں نے قانونی ٹیم کو ہدایات جاری کر دی ہیں، میاں نواز شریف کی قانونی ٹیم اسلام آباد ہائی کورٹ کے تحریری فیصلے کی منتظر ہے، جیسے ہی انہیں مکمل تحریری فیصلہ ملے گا وہ سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔ یہ اپیل میاں نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث سپریم کورٹ میں دائر کریں گے۔

نواز شریف کی قانونی ٹیم پرامید ہے کہ انہیں ضمانت مل جائے گی۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز خواجہ حارث کے دلائل ختم ہونے پرنیب پراسیکیوٹرنے اپنے دلائل شروع کرتے ہوئے کہاکہ نوازشریف کو چھ ہفتوں کی ضمانت دے کر علاج کی سہولت دی گئی،نواز شریف6ہفتوں کے دوران اپنی مرضی سے علاج کراسکتے تھے، 6ہفتے کی ضمانت صرف ٹیسٹ کے لیے نہیں علاج کے لیے تھی، چار پانچ میڈیکل بورڈز کی رپورٹس گزشتہ سماعت پر سامنے تھیں،سپریم کورٹ میں جو نظرثانی اپیل دائر ہوئی وہی یہاں دائر ہوئی،درخواست وہی ہے جو سپریم کورٹ میں نظر ثانی دائر ہوئی صرف کٹ پیسٹ کیا گیا،صرف ایک رپورٹ الرازی ہیلتھ کئیر لاہور کی نئی سامنے لائی گئی،درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل دوں گا، ریکارڈ یہ نہیں کہتا کہ نواز شریف کو فوری علاج کی ضرورت ہے،نوازشریف نے سپریم کورٹ میں نظرثانی درخواست میں علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی استدعا کی،سپریم کورٹ نے نواز شریف کی استدعا مسترد کردی تھی،سپریم کورٹ میں اسی طرح کی میڈیکل رپورٹس اور انہی گراونڈز پر نظرثانی اپیل کی گئی،سپریم کورٹ نے اسی نوعیت کی درخواست مسترد کی،سپریم کورٹ نے نواز شریف کو مشروط ضمانت دی تھی،اسلام آباد ہائیکورٹ کا گزشتہ فیصلہ ابھی بھی آن فیلڈ ہے،جس پرجسٹس محسن اخترکیانی نے کہاکہ اگر یہ یہی بات کررہے ہوں جو سپریم کورٹ کررہے تھے تو کیا ضمانت مسترد کردی جائے

عدالت نے کہاکہ سپریم کورٹ نے ایک سٹینڈرڈ قائم کیا کہ مجرم کی میڈیکل رپورٹس میں حالت خراب ہو تو ضمانت ہوسکتی ہے،زندگی بچانی ہے یہ بھی ہمیں دیکھنا ہے، جسٹس عامرفاروق نے کہاکہ ہفتے دو تین یا چار ہفتے کیا طبی بنیادوں پر ضمانت دی جاسکتی ہے، جس پرنیب پراسیکیوٹرنے کہاکہ جیل میں نوازشریف کا علاج اچھا ہورہا ہے،اس پرجسٹس محسن اخترکیانی نے کہاکہ تو پھر کیا جیل میں علاج اچھا ہے اور باہر ٹھیک نہیں۔یہ کہنا چاہتے ہیں،وکلاء کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا اورکچھ دیربعداپنے مختصر فیصلہ میں عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی درخواست مستردکردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…