جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

 پاکستان میں  غیر ملکی کمپنیوں  نے وفاقی بجٹ کے فورا بعد گاڑیوں کی قیمتوں میں لاکھوں روپے کااضافہ کر دیا 

datetime 21  جون‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن) پاکستان میں فروخت کی جانے والی غیر ملکی کمپنیوں  نے وفاقی بجٹ کے فورا بعد گاڑیوں کی قیمتوں میں بلا جواز اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے جاپانی کمپنیوں ٹیوٹا اور ہنڈا نے قیمتوں میں اضافہ کر دیا  ہے۔ اس غیر قانونی اضافے کا اطلاق بینکوں سے اقساط پر بک کی گئی گاڑیوں پر بھی کر دیا گیا ہے۔جس سے عام شہریوں  پر کافی بھاری بوجھ پڑ  ھ گیا ہے۔

اس حصے سے بنکوں کا سٹاف بجٹ سے پہلے گاڑیاں بک کروانے والے کسٹمرز کو کال کر کے اضافی روم طلب کر رہے ہیں۔ پاکستان میں چونکہ غیر ملکی کار کمپنیوں کے لئے حکمرانوں نے کھلی چھوٹ دے رکھی ہے اور ان کمپنیوں نے اجارہ داری قائم کر رکھی ہے۔موجودگی حکومت بالخصوص وزارت خزانہ کے حکام اس طرف سے آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں اور عوام کو لاکھوں روپے کا اضافی بوجھ اٹھانا پڑ رہا ہے جبکہ کوئی پرسان حال نہیں۔ اصولی طور پر بجٹ پر عملدرآمد یکم جولائی بلکہ 24 جولائی سے ہوتا ہے۔کیونکہ نئے مالیاتی سال  کے لئے نئے قوانین یا اضافے کا اطلاق بجٹ کی اسمبلی سے منظوری کے بعد ہی قانونی ہو سکتا ہے۔ کار ڈیلرز سارا الزام حکومتی اداروں اور کار کمپنیوں کے گٹھ جوڑ پر ڈال رہے ہیں۔ اس طرح اندازا کار کمپنیاں ارپوں روپے کا اضافی منافع کما لیں گی جس کا قوم کو نقصان اور حکومت کو کچھ فائدہ نہیں ہو گا گاڑیاں بک کروانے والے کسٹمرز نے حکومت سے معاملے کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق حکمران تو ذاتی فوائد حاصل کر کے عوام پر خاموشی سے بوجھ ڈال دیا کرتے تھے لیکن نئی حکومت میں تبدیلی نظر آنی چاہئیے۔زرائع کے مطابق ہنڈا سوک کی قیمت میں 5 لاکھ روپے جبکہ ہنڈا سٹی کی قیمت میں 2لاکھ روپے کا بلاجواز اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اس غیر قانونی اضافے کا اطلاق بینکوں سے اقساط پر بک کی گئی گاڑیوں پر بھی کر دیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…