اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

چنیوٹ،پاکستانی نوجوان نے کینسر اور مرگی سے بچاؤ کی ادویات بنانے کا جین دریافت کرلیا‎

datetime 21  جون‬‮  2019 |

چنیوٹ( آن لائن )پاکستانی نوجوان نے کینسر اور مرگی سے بچاو کی ادویات بنانے کا جین دریافت کرلیا۔ جرمنی سے پی ایچ ڈی کرنیوالے ڈاکٹر تجمل حسین کا ریسرچ آرٹیکل نٹرنیشنل سوئس جرنل میں شائع ہوا۔ چنیوٹ کے نوجوان نے اپنی ریسرچ کو کینسرسے وفات پانیوالی  مرحومہ والدہ کے نام سے منسوب کردیا  تفصیلات کے مطابق پاکستانی نوجوان ڈاکٹر تجمل حسین نے جرمنی کی ڈارٹمنڈ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرلی۔

جن کا ریسرچ آرٹیکل سوئٹرزلینڈ کے انٹرنیشنل جرنل میں شائع ہوا، ڈاکٹر تجمل حسین نے اپنی تحقیقات کے بعد ایسے جین کی دریافت کا دعوی کیا ہے کہ جو کینسر اور مرگی جیسی موذی امراض کی ادویات بنانے میں استعمال کیا جاسکتا ہے، چنیوٹ سے تعلق رکھنے والے30سالہ نوجوان ڈاکٹر تجمل حسین  کا کہنا ہے کہ یہ جین جو کہ راڈولا مارگیناٹا نامی پودے میں ایک اہم کمپاونڈ کو بنانے میں مدد کرتا ہے، اور اس کمپاونڈ کی خاص بات ہے کہ اس سے کینسر اور مرگی جیسی بیماریوں کیخلاف ادویات بنانے میں مدد ملے گی، حال ہی میں امریکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کنابس (بھنگ) کے استعمال کے لئے نیا قانون متعارف کروایا ہے جس کے بعد کنابس کے فارماسوٹیکل کمپنیوں میں استعمال کے وسیع مواقع ہیں۔ اور دلچسپ امر یہ کے کنابس کے بعد اب تک دنیا میں ہونیوالی ریسرچ میں صرف یہ پودا جس پرڈاکٹر تجمل حسین نے کا م کیا ہے کہ  وہ بھی ایسا ہی کمپاونڈ پیدا کرتاہے۔ اوراب جب ڈاکٹر تجمل حسین نے یہ جین دریافت کرلیا  ہے اور یہ فارماسوٹیکل کمپنیوں کے لئے اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔تاہم ڈاکٹر تجمل حسین نے کہا کہ راڈولا مارگیناٹا نامی پودا نیوزی لینڈ میں پایا جاتاہے اور ہماری ریسرچ میں نیوزی لینڈ حکومت نے جرمنی کیساتھ بھرپور تعاون کیا تاہم ابھی اس شعبہ میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے اور وہ پرامید ہیں کہ اس پر وہ مزید ریسرچ کے بعد مثبت نتائج حاصل کرسکتے ہیں ڈاکٹر تجمل حسین نے اپنی ریسرچ کو کینسر کے مرض میں مبتلا اپنی مرحومہ والدہ کے نام سے منسوب کرنیکا اعلان کیا ہے۔

ڈاکٹر تجمل حسین کا تعلق پاکستان کے شہر چنیوٹ سے ہے جنہوں نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد سے بی ایس آنرز بائیو انفارمیٹکس جبکہ نیشنل ایگری کلچر ریسرچ سنٹر اسلام آباد سے ایم فل کی ڈگری حاصل کی تھی۔ اور آج کل جرمنی میں مقیم ہیں جبکہ ان کی اہلیہ ڈاکٹر مہوش تجمل نے بھی جرمنی کے میکس پلانٹ انسٹی ٹیوٹ سے سکالر شپ پر پی ایچ ڈی کرنیوالی پہلی پاکستانی طالبہ ہیں جنہوں نے پلانٹ سائنسز پر ریسرچ کی جنکا آرٹیکل بھی دنیا کے بہترین جرنل امریکن سوسائٹی آف پلانٹ بیالوجسٹ میں شائع ہوا، ڈاکٹر تجمل اور ڈاکٹر مہوش تجمل دونوں نے 2019میں جرمنی سے پی ایچ ڈی مکمل کرنیکا اعزاز حاصل کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…