جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

پیپلزپارٹی پی ٹی ایم رہنماؤں محسن داوڑ اور علی وزیر کی حمایت میں کھل کر سامنے آگئی، بلاول زرداری نے بڑا مطالبہ کردیا

datetime 20  جون‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی) سابق صدر آصف علی زر داری نے کہاہے کہ اگر ہم تحریک نہیں چلائینگے تو کوئی اور چلائیگا،کپتان کی حکومت چیئرمین نیب کو بلیک میل کررہی ہے، ہم دبانے والے نہیں پیار کر نے والے لوگ ہیں، پاکستان پیپلزپارٹی کا اپنا نظریہ ہے ہم اسی نظرئیے پر چلیں گے،موجودہ حکومت کو نکالنے کیلئے سیاسی قوتوں کو آگے آنا ہوگا، آل پارٹیز میں تمام فیصلے ہونگے،مجھ پرجتنے مقدمات چلانے ہیں چلائیں، میری خیر ہے، پاکستان کا خیال رکھیں۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے

بات چیت کرتے ہوئے سابق صدر آصف زرداری نے کہاکہ پیپلز پارٹی پر ظلم ہوتا ہی رہتا ہے،اب ظلم کو چھپایا نہیں جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کو بہت تکلیف دہ مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نئے مالی سال کے بجٹ کی مذمت کرتے ہیں،ملک اس طرح نہیں چلتے ہیں،موجودہ حکمرانوں سے ملک نہیں سنبھلناہے۔ ایک سوال پر سابق صدر دنے کہاکہ اگر تحریک ہم نہیں چلائیں گے تو کوئی اور چلائیگااور جب وہ تحریک چلائیں گے ان کو اندازہ نہیں کہ کیا نقصان ہوگا۔ اس موقع پر بلاول بھٹو زر داری نے کہاکہ ہمارا مطالبہ ہے کے محسن داوڑ اور علی وزیر کے پروڈکشن آڈر جاری کیے جائیں۔ انہوں نے کہاکہ اگر ہر ممبر کو اپنی بات کرنے کا موقع نہیں ملے گا تویہ غیر مناسب ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ ہم حکومت کے اتحادیوں کے ساتھ رابطے میں ہیں پوری کوشش ہے بجٹ پاس نہ ہو۔بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ چیئرمین سینٹ کو ہٹانے کا معاملہ پر اے پی سی میں بات ہوگی۔ سابق صدر نے کہاکہ اگر ان کو ہٹا دیں گے تو پھر کون آئیگا۔ سابق صدر نے کہاکہ مجھ سے تو پہلے بھی 13 سال حساب مانگتے رہے ہیں،ھم تو چلیں گے جو چلنا چاہے چلے۔ انہوں نے کہاکہ ہم تو دبانے والے نہیں پیار کرنے والے لوگ ہیں۔آصف زرداری نے کہاکہ میں نے تو وہ جیلیں دیکھی ہیں جو کسی اور نے نہیں دیکھی ہیں۔انہوں نے کہاکہ بلاول کی پالیسی جذباتی ہے،میری پالیسی ٹھنڈی ہے۔آصف زرداری نے کہاکہ ہم جیل میں تھکے نہیں باہر والے یہ لوگ تھک گئے۔ صحافی نے سوال کیاکہ

کیا آپ کو حسین اصغر کے نام پر اعتراض ہے جس پر آصف علی زر داری نے کہاکہ ہمیں تو ان سب پر اعتراض ہے۔انہوں نے کہاکہ کپتان کی حکومت چیئرمین نیب کو بلیک میل کررہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایسی معاشی پالیسیوں سے ملک نہیں چلتے۔ آصف زرداری نے کہاکہ موجودہ مشیر خزانہ نے جب ہماری حکومت جارہی تھی اس وقت آئی ایم ایف کے پاس جانے کا مشورہ دیا تھا۔ آصف زرداری نے کہاکہ میں نے موجودہ مشیر خزانہ کے مشورے کو مسترد کردیا تھا۔انہوں نے کہاکہ

ملک کی ہمیں اس لیے فکر رہتی ہے کیونکہ کسی دن کوچ کر جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان پیپلزپارٹی کا اپنا نظریہ ہے ہم اسی نظرئیے پر چلیں گے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ تمام فیصلے اے پی سی میں ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ کیا میں ان سیاسی اداکاروں کی طرح بن جاؤں، یہ سیاسی اداکار کھڑے ہوکر ہاتھ ہلا ہلا کر بات کرتے ہیں،ان کو نہیں پتا انسانی ذہن پانچ منٹ سے زیادہ کسی چیز پر توجہ نہیں دے سکتا۔ انہوں نے کہاکہ میں بھی کھڑا ہوکر گھنٹہ بولوں تو کوئی توجہ نہیں دیگا۔

انہوں نے کہاکہ ہم جیل جا جا کر نہیں تھکے، یہ باہر رہ کر تھک گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کو نکالنے کیلئے سیاسی قوتوں کو آگے آنا ہوگا، سیاسی قوتیں نہیں آئیں گی تو کوئی اور آئے گا۔آصف زرداری نے کہا کہ باہر سے آئے ہوئے وزیرخزانہ کو ملکی معیشت کا علم ہی نہیں، انہوں نے کہا کہ مجھ پرجتنے مقدمات چلانے ہیں چلائیں، میری خیر ہے، پاکستان کا خیال رکھیں، 80 سال کے بزرگوں کا خیال رکھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…