جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

آنسو گیس نہیں، ایمبولینس منگوائیں، ہم مرنے کیلئے آ رہے ہیں، 14 جون کو حکومت کے خلاف بڑے اقدام کا اعلان کر دیا گیا

datetime 4  جون‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی) سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر امان اللہ کنرانی نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس دائر کرنے پر احتجاج کی کال دیتے ہوئے کہاہے کہ 14جون کو عدالتوں کو تالے لگائیں گے،سڑکوں پر نہیں جائینگے،آپ بتائیں قاضی فائز عیسیٰ کون سی شق کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں؟اگر کورڈ آف کنڈیکٹ کی بات کریں تو ایک بھی جج یہاں نہیں رہے گا، ججز کے بارے میں فیصلوں کا اختیار پارلیمنٹ کو ہونا چاہیے۔

صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن امان اللہ کنرانی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرے خواہش ہے کہ ہم لمحہ با لمحہ قوم کو آگاہ کریں،کوئی یہ نہ کہے کہ اعلان کر کے چھپ گئے۔ انہوں نے کہاکہ میں پیمراہ کی پابندیوں کی مذمت کرتا ہوں۔انہوں نے کہاکہ عدلیہ کو انسانی حقوق پر نوٹس لینا چاہیے کہ پیمراہ نے پابندیاں کیوں لگائی؟۔ انہوں نے کہاکہ ریاست اکبر بگٹی کے زخم کو ابھی تک چاٹ رہی ہے،اب ایک بار پھر بلوچستان کے جج کے ساتھ ناروا سلوک ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو نا کردہ گناہوں کی سزا نہ دی جائے۔ انہوں نے کہاکہ ان شقوں کے مجرم اعلی عدلیہ میں دندناتے پھر رہے ہیں،آپ بتائیں قاضی فائز عیسیٰ کون سی شق کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں؟اگر کورڈ آف کنڈیکٹ کی بات کریں تو ایک بھی جج یہاں نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہاکہ جب آپ سیاست دانوں کو آرٹیکل 62 اور 63 پر نا اہل کر دیتے ہیں،اسی طرح ججوں کو اپنے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ ججوں کے خلاف بھی فیصلہ کرنے کیلئے کوئی تیسرا ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ پالیمنٹ کے پاس اختیار ہونا چاہیے کہ وہ ججز کے بارے میں فیصلہ کریں۔ انہوں نے کہاکہ ہم قاضی فائز عیسیٰ کو آپ کے سامنے شکار ہونے کیلئے نہیں چھوڑیں گے۔انہوں نے کہاکہ ہم اکاؤنٹیبلٹی کے خلاف نہیں ہیں امتیازی سلوک کے خلاف ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم چیف جسٹس سمیت تمام ججز کا احترام کرتے ہیں،اب روایتی احتجاج نہیں ہو گا۔

انہوں نے کہاکہ اب احتجاج عدالتوں کے اندر ہو گا،ہم عدالتوں کو تالے لگائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ اب مجرم سڑکوں پر گسیٹے جائیں گے،ہم عدالت کے اندر آگ لگائیں گے سڑکوں پر نہیں جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ ہم کوئی معافی نہیں مانگیں گے، ہم توہیں عدالت کریں گے،جس نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر سیاست کی وہ ہماری لاشوں پر سیاست کرے،ہم اسلام کے کمزور پیمانے پر نہیں اعلی پیمانے پر جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ جسٹس کھوسہ صاحب میں عدالت کے اندر اس ریفرنس کو آگ لگا دوں گا۔

کھوسہ صاحب آپ کی سرزمین بھی کوئی اچھی تاریخ نہیں رکھتی،کھوسہ صاحب ہم آپ کی عزت کرتے ہیں لیکن آپ کے سسر عدالتی قتل کا اعتراف کر چکے ہیں،ہم جس آصف کھوسہ کو جانتے ہیں اس نے عدلیہ کے لیے قربانی دی ہیں،امید کرتا ہوں کہ چیف جسٹس اس ریفرنس کو پھاڑ کر پھینک دیں گے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں عدالت میں خون دینے والے مجنوں وکلاء کی ضرورت ہے،ہم بڑی بڑی فیسیں نہیں لیں گے۔ انہوں نے کہاکہ ہم کسی کی فون کال کا انتظار نہیں کریں گے،جنہوں نے فون کال سنیں وہ قوم کے مجرم ہیں۔انہوں نے کہاکہ جو سٹیج پر بیٹھ کر باتیں کرتے تھے وہ آج شرمندہ ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…