چیئرمین نیب نے مستعفی ہونے کیلئے مشاورت شروع کردی

  جمعہ‬‮ 24 مئی‬‮‬‮ 2019  |  22:47

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے مستعفی ہونے کے لیے مشاورت شروع کر دی، یہ بات سینئر صحافی عمر چیمہ نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہی، واضح رہے کہ گزشتہ روز ایک نجی ٹی وی چینل نے چیئرمین نیب کے خلاف ایک بے بنیاد خبر چلائی تھی، جس میں چینل نے آڈیو اور ویڈیو چلائیں لیکن بعد میں چینل نے یہ خبر چلانے پر معذرت کر لی، دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے چیئرمین قومی احتساب بیورو(نیب)کی مبینہ ویڈیو کے معاملے پرپارلیمانی کمیٹی بنانے کا


مطالبہ کردیا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئیر نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ چیئر مین نیب کی مبینہ وڈیو کے حوالے سے قومی اسمبلی کے رولز کے تحت خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائیجو اس معاملے میں ملوث کرداروں کا تعین کرے۔شاہد خاقان نے کہا کہ وہ اس حوالے سے دوسری جماعتوں سے بھی رابطہ کریں گے۔ خواجہ آصف پیر کو اس معاملے پر قومی اسمبلی میں قراردادبھی پیش کریں گے۔سابق وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ چئیرمین نیب کے گزشتہ روزکے واقعہ پرکل رات میں بہت واضح موقف دے چکا ہوں۔شہباز شریف نے کہا اس معاملے میں وزیراعظم کیدوست کے چینل سیویڈیو نشر ہونے کے نئے انکشافات کی روشنی میں ہمارا مطالبہ ہے کہ ایک پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے جو وزیراعظم اور چئیرمین نیب سے اِن سوالوں کے جواب لے اورحقائق عوام کیسامنے لائے۔ نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ چیئرمین نیب کی مبینہ وڈیو سے متعلق شہباز شریف کا ٹویٹ بھی آ گیا کہ یہ چئیرمین نیب کا ذاتی معاملہ ہے۔انہوں نے کہا گزشتہ روز نیب کا اجلاس ہوا جس کی صدارت خود چئیرمین نیب نے کی،اس کے بعد جاری پریس ریلیز میں کہا گیا کہ یہ بے بنیاد خبر ہے۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ جس ادارے نے آڈیو وڈیو چلائی وہ وزیر اعظم عمران خان کے دوست بھی ہیں اور مشیر بھی۔ انہوں نے پی ٹی آئی الیکشن کو فنڈ بھی کیا ہے،اب یہ ساری بات وزیر اعظم ہاس تک جا پہنچی ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے سوال اٹھایا کہ کیا کہیں سارے معاملے میں وزیر اعظم کا ہاتھ ہے؟ انہوں نے کہا کہ ایک اصول ہے جب تک جرم ثابت نہ ہو وہ بے گناہ ہے،لیکن وزیراعظم اور نیب کا اصول الگ ہے،یہاں الزام لگتا ہے اور مجرم بنا دیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ قائد حزب اختلاف کو ستر دن تک ریمانڈ میں کس کے کہنے پر رکھا اب سامنے آئیگا۔ اب چیئرمین نیب پر الزام لگا ہے، ہم چاہتے ہیں چیئرمین نیب کو انصاف ملے۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پہلے دن سے نیب پر تحفظات ہیں، کیا نیب حکومت کے تابع ہے، کیا حکومت کرپشن چھپا رہی ہے؟ ہم نے نیب کے حوالے سے سوال کئیتھے اب انکی کڑیاں ملنی شروع ہوگئیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کا کے پی میں احتساب سب نے دیکھ لیا ہے۔ آج چیئرمین نیب کو بلیک میل کیا جا رہا ہے ان پر دبا ڈالا جا رہا ہے کہ حکومت کی کرپشن چھپائے،اب حقائق پاکستان کے عوام کے سامنے آنے چاہیئں ان معاملات میں ادارہ، وزیراعظم اور انکے دوست سب ملوث ہیں اب یہ معاملہ عام نہیں رہا۔

موضوعات:

loading...