جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

اختیارات کے غلط استعمال اور کوتاہی میں فرق ، ہر غلط کام جرم نہیں، چیف جسٹس کے اہم کیس میں ریمارکس

datetime 22  مئی‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے ہیں کہ اختیارات کے غلط استعمال اور کوتاہی میں فرق ہے، ہر غلط کام جرم نہیں،ہر سرکاری افسر کو ساری گڑبڑ کا معلوم ہوتا ہے، نان نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کا کاروبار متعلقہ افسران کی مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتا۔

بدھ کو چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے جعلی دستاویزات کی بنیاد پر نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی رجسٹریشن سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ نیب کے وکیل نے بتایا کہ ملزم نے جعلی دستاویزات کی بنیاد پر 5 گاڑیاں رجسٹرڈ کیں۔ عدالت نے سماعت کے بعد سابق ای ٹی او الفت نسیم کی سزا کے خلاف اپیل مسترد کرتے ہوئے ملزم کو چار سال قید اور 30 ہزار روپے جرمانے کا فیصلہ برقرار رکھا، تاہم سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے کی مد میں ملزم کو 20 لاکھ کا جرمانہ ختم کردیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ گاڑیوں کی رجسٹریشن منسوخ ہونے کے باعث سرکاری خزانے کو نقصان نہیں پہنچا۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ اختیارات کے غلط استعمال کرنے اور کوتاہی ہونے میں فرق ہوتا ہے، ہر غلط کام جرم نہیں ہوتا، دیکھنا یہ ہے کہ ملزم الفت نسیم نے جان بوجھ کر جعلی دستاویزات کو تسلیم کیا یا غلطی سے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سرحدی علاقوں میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی منڈیاں لگی ہوئی ہیں، ہر سرکاری افسر کو ساری گڑبڑ کا معلوم ہوتا ہے، نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کا کاروبار بہت وسیع ہے، نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کا کاروبار متعلقہ افسران کی مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتا، فوجی آ پریشن کے دوران بھی ایک پرچی پر نان کسٹم پیڈ گاڑیاں سرحد پار کرتی تھیں۔

پہلے ایک پیلی گاڑیوں کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا، اب وہ پیلی گاڑیاں ساری افغانستان چلی گئی ہیں ایک بھی نظر نہیں آتی۔ ملزم کے وکیل نے کہا کہ پیلی گاڑیاں نواز شریف حکومت نے جاری کی تھیں، افغانستان میں پیلی گاڑیوں کو نوازی کہا جاتا ہے، ملزم نے تمام گاڑیوں کی تصدیق کیلئے ایف بی آر کو خطوط لکھےتھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…