منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

قمری کیلنڈرکا فیصلہ،وفاقی وزیر مذہبی امور نورالحق قادری نے بڑا اعلان کردیا

datetime 11  مئی‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن) وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے کہا ہے کہ قمری کیلنڈر فیصلہ علماء    کرام کی مشاورت سے ہوگا، رویت ہلال کمیٹی اجلاس پر40 لاکھ خرچ کوئی بڑا مسئلہ نہیں، مسئلہ حل ہوسکتا ہے تو40 کروڑبھی لگ جائیں تو کوئی بڑی بات نہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے بین المذاہب کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مختلف مذاہب میں مشترکات کو تلاش کرنا ہے۔

پاکستان میں اقلیتوں کو عزت و احترام حاصل ہے۔ اقلیتوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں۔ گر کسی مذہب کی توہین سے متعلق کوئی چیز ہے تو اسے ختم کریں گے۔ نور الحق قادری نے کہا کہ اسلام ہمیں امن رواداری کا درس دیتا ہے۔ پاکستان کا آئین اقلیتوں کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔نور الحق قادری نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت اقلیتوں کے حقوق کے مکمل تحفظ کو یقینی بنائے گی۔انہوں نے کہا کہ رویت ہلال کمیٹی اجلاس پر 40 لاکھ روپے خرچ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ رویت ہلال کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے تواس پر 40 کروڑ لگ جائے کوئی بڑی بات نہیں۔ رویت ہلال کمیٹی کوختم کرنا ہے تو اس پر تمام علماء    سے مشاورت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ جب تک کمیٹی کو ختم نہیں کیا جاتا یہی کمیٹی رہے گی۔ رویت ہلال کمیٹی کوچلانا ہے یا قمری کیلنڈر فیصلہ علماء    کرام کی مشاورت سے ہوگا۔واضح رہے وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے کہا تھا کہ علماء    کا احترام ہے لیکن پوری دینا میں چاند دیکھنے کے معاملات رضا کارانہ بنیادوں پر ہوتے ہیں، عید اور رمضان کے چاند دیکھنے پر 40 لاکھ خرچ کر دینا کہاں کی عقلمندی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رویت ہلال کے لئے کمیٹی قائم کرنے کے حوالے سے رائے دی ہے ہر کسی کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں، کم ازکم چاند دیکھنے کا تو معاوضہ نہیں ہونا چاہیے، پوری دنیا میں ایسے معاملات رضا کارانہ ہوتے ہیں، رویت ہلال کمیٹی کے ممبران چاند تو رضاکارانہ دیکھ لیا کریں، چاند دیکھنے پر قومی خزانے سے بھاری رقم خرچ ہو رہی ہے۔فواد چودھری نے کہا کہ پڑھے لکھے علما اکرام میری تجویز کی حمایت کر رہے ہیں، چاند دیکھنے کے لئے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانا چاہیے، 10 سال کا کیلنڈر بن جائے گا تو غیر ضروری اخراجات اور تنازعات سے بچ جائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…