اتوار‬‮ ، 18 جنوری‬‮ 2026 

 ملک دیوالیہ نہیں ہے بلکہ ہمارے لوگ نکمے ہیں،حکومت کی معاشی پالیسیاں غریب عوام کیلئے ٹھیک نہیں، تحریک انصاف کے اپنے ہی رکن اسمبلی حکومت پر برس پڑے،کھری کھری سنادیں 

datetime 7  مئی‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی نور عالم خان نے اپنی ہی حکومت کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی معاشی پالیسیاں غریب عوام کے لیے ٹھیک نہیں ہیں۔

منگل کو حکمران جماعت کے رکن نور عالم خان اپنی ہی حکومت پر برس پڑے اور اپنی حکومت کی معاشی پالیسوں سے کھل کر اختلاف کیا۔انہوں نے کہاکہ حکومت کی معاشی پالیسیاں غریب عوام کے لیے ٹھیک نہیں، عمران خان نے ان لوگوں کو چنا ہے ہوسکتا ہے یہی ان کی ٹیم ہے۔معاشی پالیسی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی ان پڑھ کو بھی کرسی پر بیٹھا دیں وہ بھی ایسے ہی معیشت چلالے گا، چیزوں کی قیمتوں میں اضافے کے لیے باہر سے لوگوں کو بلانے کی ضرورت نہیں، کسی گاوں کے فرد کو بھی بیٹھا دیں تو یہ کام کردے گا۔انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم کو جو پٹی پڑھائی جاتی ہے وہ مان لیتے ہیں، سنا ہے گورنر اسٹیٹ بینک پہلے آئی ایم ایف میں تھے، شاید اسمبلی میں قابل لوگ نہیں اس لیے باہر سے لوگوں کو بلایا گیا ہے۔نور عالم خان کے مطابق اقتدار میں آنے سے پہلے ہر کوئی عوام کی بات کرتا ہے، باہر کچھ کہتے ہیں اور کرسی پر بیٹھ کر کچھ اور کہتے ہیں، ہر وزیر خزانہ پیٹرول اور گیس مہنگا کردیتا ہے۔انہوں نے کہاکہ جو وزیر خزانہ آتا ہے وہ یہی کہتا ہے کہ ملک کا خزانہ خالی ہے، پیٹرول اور آٹا مہنگا کرنے سے کچھ نہیں ہونے والا، ملک دیوالیہ نہیں ہے بلکہ ہمارے لوگ نکمے ہیں۔این اے -27 پشاور ون سے منتخب ہونے والے پاکستان تحریک انصاف کے رکن اسمبلی نورعالم خان اس سے قبل پاکستان پیپلزپارٹی کا حصہ تھے اور 2008 سے 2013 تک رکن قومی اسمبلی رہے تھے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…