بدھ‬‮ ، 11 مارچ‬‮ 2026 

’’مہنگائی سمیت بڑھتے مسائل ، سکولوں کی بڑھتی ہوئیں فیسیں‘‘ پرائیویٹ سکولوں کو سال میں فیس پانچ فیصد سے زیادہ بڑھانے کا بہت شوق ہے تو کیا کردیں ؟ چیف جسٹس نے بڑا حکم جاری کر دیا

datetime 7  مئی‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے کہا ہے کہ نجی سکولوں کو فیس میں سالانہ پانچ فیصد سے زیادہ اضافہ چاہیے تو اپنا لائسنس سرنڈر کر دیں کاروبار نہیں چل رہا تو چھوڑ کر کوئی اور بزنس کر لیں،ان اسکولوں میں جو ہوتا ہے سب معلوم ہے،یونیفارمزاور کتابوں پر بھی الگ سے کمائی کی جاتی ہے،تعلیم فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے،

نجی اسکولز لو ریگولیٹ کرنا بھی ریاست کا کام ہے،سب اپنے دلائل مکمل کریں (آج) بدھ تک مقدمہ ختم ہونا چاہیے ۔منگل کوسپریم کورٹ میں نجی اسکولز فیس اضافے سے متعلق کیس میں چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی ۔ دوران سماعت عدالت نے والدین کو بات کرنے کی اجازت دے دی۔ والدین نے کہاکہ نجی اسکولوں والے ہمارے بچوں کو ہراساں کر رہے ہیں،ایک بچے کو لاہور کے نجی اسکول نے 6 گھنٹے تک یرغمال بنائے رکھا،سپریم کورٹ کے احکامات کی نفی کی جارہی ہے۔والدین نے کہاکہ نجی اسکول مالکان بہت طاقتور ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ اسکول والے کہتے اخراجات بڑھ گئے ہیں اس لیے فیسوں میں اضافے کی اجازت دی جائے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ سپریم کورٹ کا کام قانون کی تشریح کرنا ہے،ہمارے سامنے انفرادی مقدمات نہیں۔انہوںنے کہاکہ ہم سارے معاملے کو سمجھنا چاہتے ہیں،ہمیں انفرادی معاملات میں مت الجھائیں۔انہوںنے کہاکہ اگر والدین کو میوزک کنسرٹ,بون فائیر اور ویلائنٹین ڈے منانے پر اعتراض ہے تو بچوں کو ان اسکولز سے نکال لیں۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ ایک بات ذہن نشین کر لیں ہم سپریم کورٹ ہیں۔ انہوںنے کہاکہ سپریم کورٹ اسکول,والدین اور ریگولیٹر سب کی ہے۔انہوںنے کہاکہ ہم نے سب کے تحفظات سن کر فیصلہ کرنا ہے۔ چیف جسٹس نے اسکولز کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ کیا

ہیلووین پارٹی کیلئے بھی فیس سے الگ پیسے لیے جاتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہاہ نجی اسکولوں میں آئے روز فنکشن ہوتے ہیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ بچے ان فنکشنز پر کبھی کیک تو کبھی دودھ لیکر جاتے ہیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ کیا آپکو معلوم ہے وہ تمام سامان تو اساتدہ اپنے ساتھ لے جاتے ہیںچیف جسٹس کے ریمارکس پر کمرہ عدالت میں قہقہے لگے ۔ چیف جسٹس نے کہاکہ بنیادی حقوق واپس نہیں،

ریگولیٹ کیے جا سکتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ تعلیم فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے،نجی اسکولز لو ریگولیٹ کرنا بھی ریاست کا کام ہے۔وکیل نجی اسکولز نے کہاکہ ریاست تعلیم کی فراہمی میں ناکامی کے خلا کو نجی اسکولز نے پورا کیا،نجی اسکولز معیاری تعلیم کے لیے اپنے پروگرامز مرتب کرتے ہیں۔وکیل نے کہاکہ نجی اسکولز میں ٹیچرز کو ٹریننگ نہیں دی جاتی ہے۔

چیف جسٹس نے کہاکہ اسکولز کو سالانہ پانچ فیصد سے زیادہ اضافہ چاہیے تو اپنا لائسنس سرنڈر کر دیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ نجی اسکولز کا کاروبار نہیں چل رہا تو چھوڑ کر اور بزنس کر لیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ ان اسکولوں میں جو ہوتا ہے سب معلوم ہے۔چیف جسٹس نے کہاکہ اسکولز کی یونیفارمز کتابوں پر الگ سے کمائی کی جاتی ہے۔چیف جسٹس نے کہاکہ ان اسکولز کے نفع اربوں میں ہیں،

نقصان اگر ہو بھی تو صرف ان اسکولز کے نفع میں ہوتا ہے۔چیف جسٹس نے کہاکہ سکولز فیس میں غیر معمولی اضافے کے لیے تین سال انتظار کریں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ نجی اسکولز نے اب کالجز اور یونیورسٹیاں بنا لی ہیں۔ مخدوم علی خان نے کہاکہ ٹیوشن سینٹرز زیادہ پیسے بنا رہے ہیں،سکولوں والے ٹیوشن سینٹر والے اساتذہ کو اتنے پیسے نہیں دے سکتے۔ جسٹس فیصل عرب نے کہاکہ آپ کہتے ہیں کہ

آپ کو نقصان ہو رہا ہے تو اس کا ہرگز مطلب نہیں کہ فیسیں بڑھا دی جائیں۔انہوںنے کہاکہ اگر نئے داخلے کم ہوتے ہیں تو آپ پھر فیسیں بڑھا دیتے ہیں۔ مخدوم علی خان نے کہاکہ فیس لوگوں کو دیکھ کر بڑھائی جاتی ہے کہ وہ ادا کر سکتے ہیں یا نہیںبعد ازاں کیس کی سماعت (آج) بدھ کو 12 بجے تک ملتوی کر دی گئی ۔ چیف جسٹس نے کہاکہ (آج) بدھ کو مقدمہ ختم ہونا چاہئے،تمام فریقین کے وکلا اپنے دلائل مکمل کریں۔



کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…