منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

عمران خان جعلی، نقلی، خلائی اور نصب شدہ وزیراعظم ہیں، جہاں جاتے ہیں بونگیاں مارتے ہیں، مولانا فضل الرحمان کی وزیراعظم پر چڑھائی

datetime 28  اپریل‬‮  2019 |

مانسہرہ(آن لائن)جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ  وزیر اعظم  عمران خان جعلی، نقلی، خلائی اور نصب شدہ وزیراعظم ہیں  معیشت خسارے کا شکار ہے اور ملک دیوالیہ ہونے کے قریب  ہے تو آپ کو مہلت کیسے دیں؟ہم صدارتی نظام کے ذریعے آمریت کو راستہ نہیں دیں گے۔ مانسہرہ میں ملین مارچ سے خطاب میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومت کی خارجہ پالیسی ناکام ہوچکی ہے

پاکستانی حکمران اسلامی تعلیمات سے قطعی نابلد ہیں اور حکمرانوں کو نظریہ پاکستان کا کچھ علم نہیں انہوں نے کہا کہ ہم صدارتی نظام کے ذریعے آمریت کو راستہ نہیں دیں گے معیشت خسارے کا شکار ہے اور ملک دیوالیہ ہونے کے قریب آگیا ہے تو آپ کو مہلت کیسے دے دیں؟ آپ تو اٹھنے کے قابل بھی نہیں ہیں، ملک کو چلنے دیا جائے اور تجربات نہ کیے جائیں، انہوں نے کہا کہ جبر کامیاب ہوگیا اور جمہوریت کمزور ہوگئی قبائلیوں کو ضم کرکے بے یارومدد گار چھوڑ دیا گیا اب وہ پریشان ہیں۔مولانا فضل الرحمان نے وزیر اعظم عمران خان  کوتنقید کا نشانہ  بناتے ہوئیکہا کہ یہ کہتے ہیں زبان پھسل گئی انہیں بولنا نہیں آتا یہ جہاں جاتے ہیں  بونگیاں مارتے ہیں ہم  کہاں کہاں آپ کی غلطیاں پکڑیں؟آپ صاف کیوں نہیں کہہ دیتے کہ آپ کو علم نہیں ہے، نہ آپ کسی سے بریفنگ لیتے ہیں اور نہ پوچھتے ہیں اور خود سے بولتے ہیں تو بونگیاں مارتے ہیں آپ جعلی، نقلی، خلائی اور نصب شدہ وزیراعظم ہیں۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مجھے اپوزیشن کو نہیں بلکہ عوام کو متحد کرنے میں دلچسپی ہے ہم وطن عزیز کی نظریاتی اساس کے امین ہیں،موجودہ حکومت نے تعلیمی نصاب میں تبدیلی شروع کردی ہے۔سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ ہمیں ن لیگ اور پی پی پی سے بھی شکوہ ہے، کیا مطلب ہے کہ ان کو وقت ملنا چاہیے؟ اس کا معنیٰ یہ ہے کہ آپ دھاندلی والے جعلی الیکشن کو تسلیم کررہے ہیں، کیا مصلحتیں ہیں بتایا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…