بدھ‬‮ ، 19 مارچ‬‮ 2025 

پشاور میٹرو بس منصوبہ کیوں تاخیر کا شکار ہوا؟اصل وجوہات تو اب سامنے آئیں،صوبائی انسپکشن ٹیم کی رپورٹ یکسر مسترد

datetime 28  اپریل‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پشاور(آن لائن)27کلو میٹر بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے پشاور کی جانب سے صوبائی انسپکشن ٹیم کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہو ئے موقف اختیار کیا ہے کہ منصوبے پر کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے اور بس ریپڈ ٹرنزٹ پشاور کے کنسلٹنٹ موٹ میک ڈونلڈ نے صوبائی انسپکشن ٹیم کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے انسپکشن ٹیم کی معلومات کو گمراہ کن اور نامکمل قرار دیا ہے۔

بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبہ کے پرنسپل انجینئر گل حمید خلیل نے11صفحات پر مبنی جواب جاری کرتے ہوئے صوبائی انسپکشن ٹیم کی رپورٹ کو زمینی حقائق کے منافی قرار دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور کنسلٹنٹ کی ٹیم نے صوبائی انسپکشن ٹیم کیساتھ ملاقات کرکے مدلل انداز میں اپنا کیس پیش کیا۔ تاہم ممکنہ طور پر انجینئرنگ کے شعبہ سے لاعلمی کے باعث صوبائی انسپکشن ٹیم وضاحت سمجھنے سے قاصر رہی یا پھر شاید جان بوجھ کر گمراہ کن اور غلط رپورٹ مرتب کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریپڈ بس ٹرانزٹ منصوبہ کا ٹھیکہ ایشیائی ترقیاتی بینک کی ہدایات کی روشنی میں کم ترین بولی دینے والی کمپنی کو 6ماہ میں کام مکمل کرنے کے لئے دیا گیا۔ پرنسپل انجینئر نے کہا کہ صوبائی انسپکشن ٹیم کی اس رپورٹ میں کوئی صداقت نہیں کہ منصوبہ کی تیز تر تکمیل کے لئے کمپنی کو 25فیصد اضافی رقم دی گئی۔ پی سی ون میں منصوبہ کی تکمیل کی مدت 12ماہ تھی جو بعد ازاں صوبائی حکومت کی جانب سے کم کرکے صرف 6ماہ کی گئی۔اگرچہ کمپنی کی جانب سے تعمیراتی کام چھ ماہ کے مقررہ وقت میں پورا کرنے کی کو شش کی گئی تاہم چمکنی اور گلبہار میں عام ٹریفک کے لئے اضافی فلائی اوورز کی تعمیر ، چمکنی میں اضافی بس سٹیشن ، متعدد بس سٹیشنوں کے ازسر نو تعین ، ڈیزائننگ ، ملک سعد شہید فلائی اوور کے ساتھ عام ٹریفک کے لئے بی آر ٹی لائنز ، فردوس میں بی آر ٹی سٹاپ کے لئے نئی جگہ کا تعین اور ری ڈیزائننگ ، امن چوک میں منصوبے کے اثر نو ڈیزائننگ کے ساتھ ساتھ کوہاٹ روڈ ، باڑہ روڈ اور ائیر پورٹ کو مین بی آر ٹی روٹس سے منسلک کرنے اور تاتاراچوک میں فلائی اوور کے تعمیر کے ساتھ حیات آباد سے کارخانوں مارکیٹ تک منصوبے کو وسعت دی گئی جس کا رقبہ دو کلو میٹر سے ز ائد ہیں اس طرح کارخانوں مارکیٹ میں اضافی بس سٹینڈز کی وجہ سے منصوبے کے مقررہ وقت کے اندر تکمیل مکمل نہ ہو سکی ۔ ان تمام وجوہات سے پشاو رڈویلپمنٹ اتھارٹی کو پورے طور پر آگاہ کیا ہے خط کے مطابق سائیکل ٹریک کی تعمیر ابھی جاری ہے ۔ اس طرح مکسڈ ٹریفک لائن اور سروس روڈ کے داخلی اور خارجی راستوں کی تعمیر بھی ہونی ہے ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)


بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…

تیسری عالمی جنگ تیار

سرونٹ آف دی پیپل کا پہلا سیزن 2015ء میں یوکرائن…

آپ کی تھوڑی سی مہربانی

اسٹیوجابز کے نام سے آپ واقف ہیں ‘ دنیا میں جہاں…

وزیراعظم

میں نے زندگی میں اس سے مہنگا کپڑا نہیں دیکھا تھا‘…

نارمل ملک

حکیم بابر میرے پرانے دوست ہیں‘ میرے ایک بزرگ…

وہ بے چاری بھوک سے مر گئی

آپ اگر اسلام آباد لاہور موٹروے سے چکوال انٹرچینج…