ہفتہ‬‮ ، 17 جنوری‬‮ 2026 

صدارتی نظام پاکستان کے آئین کو ختم کرنے کے مترادف ہو گا،عمران خان فوری استعفیٰ دیں،مولانا فضل الرحمن نے بڑے اقدام کا اعلان کردیا

datetime 27  اپریل‬‮  2019 |

چنیوٹ(این این آئی)جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہصدارتی نظام پاکستان کے آئین کو ختم کرنے کے مترادف ہو گا،کوئی بھی سیاسی پارٹی قبول نہیں کریگی، موجودہ حکومت کی پالیسیوں نے ریاست کو خطرے میں ڈال دیا ہے،عمران خان فوری مستعفی ہو جائیں،آج تک دینی مدارس کے کسی طا لب علم نے نوکری کی بھیک نہیں ما نگی۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ہماری اسلامی شناخت کوختم کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہاکہ حکومت نے ملکی معیشت کو کمزور کر دیا ہے۔ انھوں نے کہاکہ موجودہ حکومت کی پالیسیوں نے ریاست کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔انہوں نے کہاکہ صدارتی نظام آمریت کی علامت اور پاکستان کے آئین کو ختم کرنے کے مترادف ہو گا،جسے کوئی بھی سیاسی پارٹی قبول نہیں کریگی۔ انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے ملک میں غیر سنجیدگی اور بے حیائی پیدا کی۔انہوں نے کہاکہ حکومت عوام کو بنیادی حقوق فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، ریاست مدینہ کہنے والے پاکستان کی عوام کے ساتھ ظلم کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم اسلام آباد کی سڑکوں پر اس حکومت کے خلاف آئیں گے۔انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت نے ہمارے اردگرد دشمن پیدا کیے ہیں،ایسی پالیسیوں کے پیش نظر ریاست خطرے میں ہیانہوں نے کہاکہ تحریک انصاف نے ہماری ملک کی سیاست کے وقار کا جنازہ نکالا ہے۔انہوں نے کہاکہ مہنگائی کے خلاف ہماری ہی جماعت میدان میں ہے۔ہم نے گیارہ ملین مارچ کیے ہیں،ہر مارچ میں ملکی معیشت مہنگائی اور عوام کے حق کی بات کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ عمران خان مستعفی ہو جائیں ہم اس حکومت کو نہیں مانتے۔ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اسلامی جا معات کو قومی دھارے میں لانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ آج تک دینی مدارس کے کسی طا لب علم نے نوکری کی بھیک نہیں ما نگی۔ ہم نے ریاست کا بے پناہ احترام کیا مگر ہمیں شک کی نگاہ سے دیکھا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…