منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

صدارتی نظام پاکستان کے آئین کو ختم کرنے کے مترادف ہو گا،عمران خان فوری استعفیٰ دیں،مولانا فضل الرحمن نے بڑے اقدام کا اعلان کردیا

datetime 27  اپریل‬‮  2019 |

چنیوٹ(این این آئی)جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہصدارتی نظام پاکستان کے آئین کو ختم کرنے کے مترادف ہو گا،کوئی بھی سیاسی پارٹی قبول نہیں کریگی، موجودہ حکومت کی پالیسیوں نے ریاست کو خطرے میں ڈال دیا ہے،عمران خان فوری مستعفی ہو جائیں،آج تک دینی مدارس کے کسی طا لب علم نے نوکری کی بھیک نہیں ما نگی۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ہماری اسلامی شناخت کوختم کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہاکہ حکومت نے ملکی معیشت کو کمزور کر دیا ہے۔ انھوں نے کہاکہ موجودہ حکومت کی پالیسیوں نے ریاست کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔انہوں نے کہاکہ صدارتی نظام آمریت کی علامت اور پاکستان کے آئین کو ختم کرنے کے مترادف ہو گا،جسے کوئی بھی سیاسی پارٹی قبول نہیں کریگی۔ انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے ملک میں غیر سنجیدگی اور بے حیائی پیدا کی۔انہوں نے کہاکہ حکومت عوام کو بنیادی حقوق فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، ریاست مدینہ کہنے والے پاکستان کی عوام کے ساتھ ظلم کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم اسلام آباد کی سڑکوں پر اس حکومت کے خلاف آئیں گے۔انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت نے ہمارے اردگرد دشمن پیدا کیے ہیں،ایسی پالیسیوں کے پیش نظر ریاست خطرے میں ہیانہوں نے کہاکہ تحریک انصاف نے ہماری ملک کی سیاست کے وقار کا جنازہ نکالا ہے۔انہوں نے کہاکہ مہنگائی کے خلاف ہماری ہی جماعت میدان میں ہے۔ہم نے گیارہ ملین مارچ کیے ہیں،ہر مارچ میں ملکی معیشت مہنگائی اور عوام کے حق کی بات کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ عمران خان مستعفی ہو جائیں ہم اس حکومت کو نہیں مانتے۔ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اسلامی جا معات کو قومی دھارے میں لانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ آج تک دینی مدارس کے کسی طا لب علم نے نوکری کی بھیک نہیں ما نگی۔ ہم نے ریاست کا بے پناہ احترام کیا مگر ہمیں شک کی نگاہ سے دیکھا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…