پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

مجھے جعلی اکا ونٹس  نہیں بلکہ  توشہ خانے کی گاڑیاں زرداری کو دینے پر طلب  کیا گیا،یوسف رضا گیلانی نے بڑا اعتراف کرلیا، حیرت انگیزانکشافات

datetime 26  اپریل‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن) سابق وزیراعظم اور پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ حکومت اپنا کردار ادا کر ے اور  اپوزیشن کو اپنا کردار ادا کرنے دے مجھے جعلی اکا ونٹس کیس میں نہیں بلکہ مجھے توشہ خانے کی گاڑیاں آصف زرداری کو دینے پر طلب کیا گیا،ہمیں این آر او کی ضرورت نہیں نا ہی ہم نے کسی سے این آر او ما  نگا ہے۔

نیب آفس میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ جعلی اکاونٹس سے ادائیگی کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں، مجھے منی لانڈرنگ یا جعلی اکاونٹس میں نہیں بلایا جارہا ہے، مجھے توشہ خانے کی گاڑیاں آصف زرداری کو دینے پر طلب کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ میں نے پوچھا کہ مجھے کیوں بلایا گیا ہے،مجھ سے کہا گیا کہ جو گاڑیاں خریدی گئی ان اکاونٹس سے ادائیگی کی گئی، تومیں نے جواب دیا کہ اس وقت تو جعلی اکاونٹس کا معاملہ نہیں تھا میرا کیا لینا دینا ہے اس سے یہ گا ڑیا ں 2009میں خریدی  گئی   ۔  انہو ں نے کہا کہ  یہ کہہ رہے ہیں کہ صرف تین گاڑیاں ان اکاؤنٹس کے ذریعے خریدی گئیں میں نے جس سمری کی منظوری دی تھی اس میں کوئی غلط بات نہیں تھی،خط لکھ کر کچھ سمریوں کی کاپی میں نے مانگی تھی، سابق وزیراعظم نے کہا کہ میں نے نیب کے سوالوں کے جوابات جمع کرادیے،مجھ سے صرف رولز سے متعلق پوچھا گیا ہے،میں نے سیکرٹری کو گاڑی قانون کے مطابق دینے کے احکامات دیے تھے۔تمام قوانین کو مد نظر رکھ کر ہم نے گاڑیاں دی ہیں کا بینہ کی منظوری کے بعد سمری میرے پا س آئی یہ  کو ئی غلط کا م نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہو ں نے کہا کہ  میں نے 10سال جیل کا ٹی ابھی بھی کیسز بھگت رہا ہو ں  آصف علی زرداری نے بھی جیل کا ٹی اور تما م مقدما ت کا سامنا کیا جبکہ سابق وزیر اعظم راجہ پر ویز اشرف بھی کیسز کا مقا بلہ کر ر ہے ہیں ہمیں این آر او کی ضرورت نہیں نا ہی ہم نے کسی سے این آر او ما  نگا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…