ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

یوسف رضا گیلانی نیب کی تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ، آصف علی زر داری کو گاڑیاں دینے پر پوچھ گچھ

datetime 26  اپریل‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)سابق وزیراعظم اور پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ مجھے جعلی کیس میں نہیں توشہ خانے کی گاڑیاں آصف علی زر داری کو دینے پر بلایاگیاہے ،مجھ سے صرف رولز سے متعلق پوچھا گیا ،میں نے سیکرٹری کو گاڑی قانون کے مطابق دینے کے احکامات دئیے تھے،تمام قوانین کو مد نظر رکھ کر ہم نے گاڑیاں دی ہیں،حکومت اپوزیشن کو اپنا کردار ادا کرنے دے۔

ہمیں کسی این آراو کی ضرورت ہے۔ جمعہ کو سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نیب کی تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہوئے اور سوالات کے جواب دیئے ۔نیب نے یوسف رضا گیلانی کو جعلی اکاونٹس کیس میں طلب کر رکھا ہے ،یوسف رضا گیلانی پر الزام ہے کہ انہوں نے بطور وزیر اعظم توشہ خانے کی گاڑیاں سابق آصف زرداری کو دی تھیں،لگژری گاڑیوں کے ٹیکس کی ادائیگی جعلی اکاونٹس سے کرنے کا الزام ہے۔ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی جانب سے مقررہ وقت پر تحریری جواب جمع نہیں کروایا جا سکا ،نیب نے تحریری جواب نہ ملنے پر دوبارہ طلب کیا۔ نیب پیشی کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم نے کہاکہ جعلی اکائونٹس سے ادائیگی کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں، مجھے منی لانڈرنگ یا جعلی اکائونٹس میں نہیں بلایا جارہا ہے ، مجھے توشہ خانے کی گاڑیاں آصف زرداری کو دینے پر طلب کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ میں نے پوچھا کہ مجھے کیوں بلایا گیا ہے ،مجھ سے کہا گیا کہ جو گاڑیاں خریدی گئی ان اکائونٹس سے ادائیگی کی گئی ، تومیں نے جواب دیا کہ اس وقت تو جعلی اکائونٹس کا معاملہ نہیں تھا میرا کیا لینا دینا ہے اس سے ۔ یوسف گیلانی نے کہا کہ یہ کہہ رہے ہیں کہ صرف تین گاڑیاں ان اکائونٹس کے ذریعے خریدی گئیں،یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ میں نے جس سمری کی منظوری دی تھی اس میں کوئی غلط بات نہیں تھی،خط لکھ کر کچھ سمریوں کی کاپی میں نے مانگی تھی ۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ میں نے نیب کے سوالوں کے جوابات جمع کرادئیے ،مجھ سے صرف رولز سے متعلق پوچھا گیا ہے ،میں نے سیکرٹری کو گاڑی قانون کے مطابق دینے کے احکامات دیے تھے۔تمام قوانین کو مد نظر رکھ کر ہم نے گاڑیاں دی ہیں۔ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ ہمیں تو بچپن سے ہی بلایا جا رہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ تحقیقات میں

میری دوسری پیشی تھی،چار گاڑیوں سے متعلق تحقیقات تھی،ایک گاڑی سعودی عرب حکومت نے نواز شریف اور دوسری فاروق لغاری کو گفٹ کی تھی۔ انہوںنے کہاکہ میں نے اپنے پرنسپل سیکرٹری کو کہا تھا کہ ایک گاڑی نواز شریف کو دے دیں،نواز شریف کے مطالبے پر ان کو گاڑی دی تھی انہوں نے کہاکہ سابق صدر آصف زرداری کو

بھی گاڑیاں دی گئی تھی،میں نے جو کام کیا وہ قانون کے مطابق کیا۔ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ نیب قانون کے تحت پانچ سال جیل کاٹی اور با عزت بری ہوا ہوں،میں نے چیف جسٹس سے سوال کیا کہ میری زندگی کے دس سال مجھے کون واپس دیگا۔ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ ہمیں کسی این آراو کی ضرورت ہے۔انہوںنے کہاکہ جب بھی بلاتے ہیں پیش ہوتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…