جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

چینی شہریوں کا پاکستانی خواتین سے شادی کے بعد انکے اعضا نکالنے کا انکشاف

datetime 4  اپریل‬‮  2019 |

اسلام آباد ( آن لائن ) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف میں انکشاف ہوا ہے کہ چینی شہری پاکستانی خواتین سے شادی کے بعد ان کے جسم کے اعضا نکال لیتے ہیں۔کمیٹی کا اجلاس چیئرمین ریاض فتیانہ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ کمیٹی نے قومی اسمبلی میں اقلیتوں کی نشستوں میں اضافے اور خواتین پر تشدد سے متعلق سفارشات کی تیاری کے لئے ذیلی کمیٹی تشکیل دیدی ہے۔

رکن قومی اسمبلی حسین طارق کنوینر ہوں گے۔ قائمہ کمیٹی نے صوبوں اور وفاق سے خواتین پر تشدد کے واقعات کی مکمل تفصیلات طلب کرلیں۔ ممبر کمیٹی شنیلا رتھ نے مذہب کی زبردستی تبدیلی کیخلاف قانون سازی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں خواتین پر تشدد کے خلاف بنائے گئے قوانین پرعملدرآمد نہیں ہو رہا، تشدد کیساتھ مذہب کی زبردستی تبدیلی بھی بڑھ رہی ہے۔شنیلا رتھ نے انکشاف کیا کہ پنجاب میں خواتین چینی شہریوں سے شادیاں کر رہی ہیں، چینی شہری غریب بچیوں کو پیسے دیکر شادیاں کر رہے ہیں اور شادی کے بعد ان کے جسم کے اعضا نکال لیتے ہیں۔ ممبر کمیٹی لعل چند نے کہا کہ چینی شہری جعلی طور پر مسلمان بن کر بچیوں سے شادیاں کر رہے ہیں جب کہ ہندو بچیوں کے مسلمان ہوجانے کے جعلی سرٹیفکیٹ بھی بنائے جاتے ہیں۔اجلاس میں ملتان اور چترال میں فوکر جہازوں کے حادثات پر معاوضوں کے حوالے سے جائزہ لیا گیا۔ پی آئی اے کی جانب سے ائیر وائس مارشل نور عباس نے کمیٹی کو بتایا کہ حادثے کی صورت میں عالمی فلائٹ میں مرنے والوں کو 50 لاکھ روپے فی کس اور سامان کا ایک ہزار روپے فی کلو دیا جاتا ہے۔ ملتان حادثے کے وقت اندروں ملک مرنے والوں کو 40 لاکھ رروپے ملنے کا ملکی قانون تھا ۔ملتان حادثے میں دو جج بھی جاں بحق ہوئے تھے۔

اس حادثے میں مرنے والوں کو 40 لاکھ روپے فی کس دیا گیا جبکہ چترال حادثے میں ہلاک شدگان کے ورثہ کو 50 لاکھ فی کس دیئے گئے۔کمیٹی نے پی آئی اے کے حادثات میں متاثرہ افراد کو معاوضہ جات کی ادائیگی کا معاملہ آئندہ اجلاس تک موخر کر دیا۔ اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری قانون ملائیکہ بخاری نے کہا کہ ملک بھر میں خواتین پر تشدد کے واقعات سامنے آرہے ہیں۔ گھریلو تشدد کے واقعات میں پولیس اور پراسیکیوشن کا رویہ مناسب نہیں ہے۔

کمیٹی کو اس معاملے پر غور کرنا چاہیے۔ چیئرمین کمیٹی نے وزارت قانون و انصاف کو ہدایت کی کہ وہ ایک ماہ میں تمام صوبائی حکومتوں اور صوبائی وزارت داخلہ سے خواتین پر تشدد، تیزاب گردی کے واقعات اور ان پر سزا سے متعلق معلومات فراہم کریں۔ خواتین پر تشدد کے حوالے سے قوانین کو مربوط بنانے کی ضرورت ہے۔وزارت قانون نے بتایا کہ پارلیمنٹ کی جانب سے قانون سازی کے بعد متعلقہ محکمے کی مشاورت سے قواعد وضوابط وضع کئے جاتے ہیں تاہم قانون کے بعد اس پرعملدرآمد کو جانچنے کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ تمام محکموں کو واضح ہدایات دیں کہ وہ قانون کے مطابق اپنے قواعد وضوابط وضع کریں جبکہ آئندہ قانون سازی میں بھی یہ شق شامل کی جائے کہ قانون سازی کے بعد مخصوص مدت میں قواعد وضوابط بنانا ضروری ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…