جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

سفاکیت کی انتہا ، سنگدل ماں نے محبت کیلئے اپنے بیٹے کو قربان کر دیا خاتون نے جس کیلئے اپنے بیٹے کا قتل کیا اسی نے سچائی سے پردہ اٹھا دیا

datetime 30  مارچ‬‮  2019 |

لاہور(سی پی پی )سفاکیت کی انتہا، محبت کے چکر میں خاتون نے اپنے ہی بیٹے کی قربانی دے دی اور اسے قتل کر دیا لیکن قسمت ایسی کہ جس کی محبت میں بیٹے کو قربان کیا، اسی نے ملزمہ کا پول کھول دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ملزمہ محبت کے چنگل میں پھنس پر اپنے بیٹے کو قتل کیا لیکن اس کے بعد بھی اس واقعہ کو قتل قرار دینے کی بجائے خود کشی کہتی رہی۔

بیٹے کی قاتل والدہ عظمیٰ بی بی کا کہنا تھا کہ مجھے میرے بیٹے کی لاش چھت سے برآمد ہوئی تھی۔ وہ گیارہ بجے گھر آیا تھا اس وقت میں سو رہی تھی ، میری بیٹی نے دروازہ کھولا وہ بھی آ کر سو گئی تھی۔ میرے شوہر کام پر گئے ہوئے تھے، جب وہ ڈھائی بجے آئے تو انہوں نے مجھے فون کیا کہ گھر کی چابی پھینکو، جیسے ہی میں کمرے سے باہر آئی تو میرا بیٹا اپنے بستر میں نہیں تھا۔میں نے اپنی بیٹی سے دریافت کیا تو اس نے بھی لاعلمی کا اظہار کیا۔ میں نے اپنے شوہر کو چابی پھینکی، پھر مجھے خیال آیا کہ کہیں میرا بیٹا چھت پر نہ ہو۔ میں چھت پر گئی تو میں نے دیکھا کہ وہ زمین پر پڑا ہوا تھا۔ میں جب قریب گئی تو اس کے گلے میں گیس والا پائپ تھا۔ لیکن دراصل خاتون نے اپنے آشنا کے ساتھ مل کر اپنے ہی بیٹے کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔خاتون کے آشنا نے بیان دیتے ہوئے ساری سچائی اگل دی اور کہا کہ وہ اپنی والدہ سے بد تمیزی کرتا تھا ، چار دن قبل میں زہر لے کر آیا، مارنے کا ارادہ نہیں تھا لیکن اس کی بد تمیزی ناقابل برداشت تھی۔ خاتون کے بیٹے کی موت کے بعد چھ سال قبل اس کے شوہر کی موت کا راز بھی افشاں ہو گیا اور انکشاف ہوا کہ خاتون نے اپنے آشنا سے مل کر چھ سال قبل اپنے شوہر کو بھی مار دیا تھا، جس کے بعد اپنے آشنا سے شادی کی اور اب چھ سال بعد اپنے بیٹے کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا۔

خاتون کے آشنا کا کہنا تھا کہ میں زہر لایا جسے اس کی والدہ نے دودھ میں ملا کر اسے پلا دیا۔ جب وہ نیم بے ہوش ہوا تو ہم اسے چھت پر لے گئے۔ جہاں اس کے گلے میں گیس کا پائپ ڈال کر اسے مار دیا۔ قتل کے اس واقعہ پر اہل علاقہ نے بھی تشویش کا اظہار کیا کہ کوئی ماں اپنے لخت جگر کو کیسے موت کے گھاٹ اتار سکتی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کے خلاف تفتیش جاری ہے جس کے بعد ملزمان کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…