جمعرات‬‮ ، 15 جنوری‬‮ 2026 

بہاولپور: پروفیسر کو قتل کرنے والا طالبعلم 15 روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے ،ملزم نے عدالت میں اقبال جرم کرلیا

datetime 21  مارچ‬‮  2019 |

بہاولپور(آن لائن)بہاولپور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے چھری کے وار سے پروفیسر کو قتل کرنے والے طالب علم کو ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔واضح رہے کہ صادق ایجرٹن کالج میں شعبہ انگریزی کے سربراہ پروفیسر خالد حمید کالج میں اپنے دفتر میں موجود تھے جب انہیں طالب علم نے مبینہ طور پر پہلے مخاطب کیا اور پھر چھری کے وار کیے تھے۔

پولیس کا کہنا تھا کہ شعبہ انگریزی میں ‘بی ایس’ پروگرام کے پانچویں سیمسٹر کے طالب علم خطیب حسین کا کالج میں ‘ویلکم پارٹی’ کے انعقاد کے حوالے سے پروفیسر خالد حمید سے سخت جملوں کا تبادلہ ہوا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ پروفیسر خالد حمید اس تقریب کی نگرانی کر رہے تھے جو کالج میں نئے آنے والے طلبہ کو خوش آمدید کہنے کے لیے 21 مارچ کو منعقد کی جانی تھی۔پولیس کے مطابق طالب علم خطیب حسین اس تقریب کا مخالف تھا کیونکہ اس کے مطابق طلبا اور طالبات کی مخلوط محفل ‘غیر اسلامی’ تھی۔پولیس نے کہا کہ پروفیسر سے تلخ کلامی کے بعد خطیب حسین نے خالد حمید کے سر اور پیٹ پر چھری سے وار کیا جس کی وجہ سے وہ شدید زخمی ہوگئے تھے۔بعد ازاں پروفیسر کو بہاولپور کے وِکٹوریا ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے تھے۔ملزم کو پولیس نے کیس میں تحقیقات کے لیے ریمانڈ طلب کرنے کے لیے عدالت میں پیش کیا۔ملزم نے عدالت میں اقبال جرم کیا تاہم پولیس نے قتل کی تمام زاویوں سے تحقیقات کی خواہش کا اظہار کیا۔عدالت نے ملزم خطیب کا 15 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے ملزم کو پولیس کے حوالے کردیا۔بہاولپور کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر امیر تیمور خان کا کہنا تھا کہ معاملے پر تحقیقات کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ا آلات کا بھی استعمال کیا جارہا ہے۔انہوں نے پروفیسر کے اہلخانہ کو انصاف فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ تحقیقات میں فارنزک شواہد پر بھی غور کیا جارہا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…