جمعرات‬‮ ، 01 جنوری‬‮ 2026 

مراد علی شاہ کی نیب طلبی پر صوبائی حکومت کی صفوں میں کھلبلی اہم ارکان صوبائی اسمبلی نےگرفتاری سے بچنے کیلئے کس چیز پر غور شروع کردیا؟

datetime 21  مارچ‬‮  2019 |

کراچی (آن لائن)نیب کی جانب سے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی طلبی نے صوبائی حکومت کی صفوں میں کھلبلی مچادی،اہم ارکان صوبائی اسمبلی نے نیب گرفتاری سے بچنے کیلئے عدالتوں سے حفاظتی ضمانت کیلئے رجوع کرنے پر غور شروع کردیا۔تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کے بعد پیپلزپارٹی بھی نیب کے شکنجے میں بری طرح پھنس چکی ہے اور پارٹی چیئرمین بلاول زرداری

اورشریک چیئرمین آصف زرداری کے بعد نیب کی 26 مارچ کو وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کی طلبی نے صوبائی حکومت کی صفوں میں کھلبلی مچادی ہے۔زرائع کے مطابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغاسراج درانی کی گرفتاری سے پیپلزپارٹی کے ارکان اسمبلی پہلے ہی عدم تحفظ کا شکار تھے تاہم مرادعلی شاہ کی طلبی پر اب اہم ارکان اسمبلی نے نیب کی جانب سے گرفتاری سے بچنے کیلئے سرجوڑ لئے ہیں اور ارکان اسمبلی نے حفاظتی ضمانت کیلئے عدالتوں سے رجوع کرنے پر بھی غور شروع کردیا ہے۔ان میں اکثریت ان وزراء اور ارکان اسمبلی کی ہے جو پہلے ہی نیب کی لسٹ پرہیں اور نیب ان کے خلاف تحقیقات کررہا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ کو ٹھٹھہ شوگر مل اومنی گروپ کو معمولی قیمت پر فروخت کرنے پر طلب کیا گیا ہے۔ مراد علی شاہ پر24.9 ارب روپے کی خرد برد کا بھی کیس چل رہا ہے اس حوالے سے ان پر کیس ہے کہ جب وہ سندھ کے وزیر خزانہ تھے تو انہوں نے اومنی گروپ کے ساتھ مل کر عوام سے 24.9 ارب روپے کا فراڈ کیا، اس کیس کی بھی تحقیقات چل رہی ہیں۔اس سے پہلے وزیر اعلیٰ سندھ کو 4 جنوری کودریائے ملیر کی زمین کے کیس میں بھی نیب نے طلب کیا تھا جس کی تحقیقات جاری ہیں۔ دریائے ملیرکی زمین کو کم قیمت پر اومنی گروپ کو بیچنے پر نیب نے مراد علی شاہ اور سابق وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ دونوں کو طلب کیا تھا اور اس حوالے سے کیس ابھی چل رہا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری کے منی لانڈرنگ کیس میں بھی مراد علی شاہ کو طلب کیا گیا تھا۔ پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت پہلے ہی وزیراعلیٰ سندھ سے استعفیٰ مانگ رہی ہے اور اب ان پر اس حوالے سے دبائو مزید بڑھ گیا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…