پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

ضیا الحق نے ڈالروں کے عوض پختون سرزمین کو بارود کا ڈھیر بنایا، اے این پی نے سنگین الزامات عائد کردیئے

datetime 19  مارچ‬‮  2019 |

پشاور(این این آئی) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ ضیا ء الحق کے دور آمریت میں امریکی پالیسیوں کے تناظر میں خیبر پختونخوا کی پر امن سرزمین کو بارود کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا گیا ،قلم و کتاب اور فن کی جگہ ہماری نسلوں میں ہیروئن اور کلاشنکوف کلچر متعارف کرانے کا سہرا اس وقت کے ڈکٹیٹرکے سر ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے باچا خان مرکز میں رحیم الدین الفت کی کتاب کی رونمائی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا،

اس موقع پر ادبی محفل اور موسیقی کا اہتمام بھی کیا گیا، میاں افتخار حسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ اے این پی نے ہمیشہ پختونوں کی ترقی کو اپنا شعار بنائے رکھا،انہوں نے کہا کہ ثقافت ، تہذیب اور ادب کیلئے ہم نے بیش بہا قربانیاں دیں اور کئی قیمتی جانوں کی قربانیوں کے نتیجے میں ثقافت کا کلچر خیبر پختونخوا میں واپس لائے،جسے ختم کرنے کیلئے یہاں لوگوں نے کوششیں کیں،ہمارے فنکاروں اور ادبا کا خون اس لئے بہایا گیا کیونکہ وہ ہمارے معاشرے کی آنکھ اور زبان تھے،پختون ثقافت کے لحاظ سے مالامال ہیں ،انہوں نے کہا کہ چالیس برس کی مسلسل کوششوں کے بعد پختون ثقافت آپ تک پہنچی ہے جبکہ ڈکٹیٹر ضیا الحق کے دور آمریت میں ہمارے کلچر تہذیب و تمدن اور نصاب کے خلاف سازشوں کے پُل باندھے گئے اور دہشت گردی کو تقویت ملی، امن دشمنوں نے ہر طرح سے ہمیں ختم کرنے کی کوشش کی تاہم اے این پی کی حکومت نے اقتدار میں آ کر پختون ثقافت کو نئی زندگی بخشی جس کے نتیجے میں ہمارے سینکڑوں رہنما ، ایم پی ایز اور کارکن شہید کر دیئے گئے،میاں افتخار حسین نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں لیکچررز کی پوسٹیں ختم کرنے کے ساتھ ساتھ نصاب تبدیل کر دیا گیا غرضیکہ ہر طرح سے پختونوں کے خلاف محاذ آرائی کا آغاز کر دیا گیا تھا،انہوں نے کہا کہ ہم نے دھمکیوں کے باوجود جان ہتھیلی پر رکھ کر نشتر ہال کو نئے سرے سے کھول کر

اپنی ثقافت کو زندہ کیا اور صوبے کے لیکچررز کی پوسٹیں بحال کیں،جن فنکاروں کو ڈرا دھمکا کر ان کی آواز سلب کر دی گئی تھی انہیں ہم نے نیا پلیٹ فارم فراہم کیا اور ساتھ ہی ان فنکاروں کیلئے اعزازیہ کا آغاز کیا، انہوں نے مزید کہا کہ قومی احساسات و جذبات کی عکاسی کرنے والے ادبا و شعراء پر پابندی لگائی گئی تھی جسے اے این پی نے ختم کر کے قوم کی آواز بنایا ، علمی درسگاہوں کو ٹارگٹ کیا گیا،انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم اے این پی کا عظیم کارنامہ ہے جس کے بعد

ہم نے صوبائی خودمختاری حاصل کی اور نصاب میں تبدیلی کی کیونکہ مادری زبان کی ترویج کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی اور اپنی ثقافت کو زندہ رکھنے والی قومیں منزل پر پہنچ پاتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اسلام کے نام پر ثقافت کا گلہ گھونٹنے والے در حقیقت امن کے دشمن تھے اور ایک سازش کے تحت پختونوں کو صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتے تھے لیکن آج ان کا کوئی نام لیوا نہیں ،انہوں نے کہا کہ ہم سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر پختونوں پر ہونے والے مظالم کا حساب لیں گے اور پختونوں کے حقوق و حفاظت کیلئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…