پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

جیل قوانین کے تحت نواز شریف کوحیران کن اختیارات حاصل ،مریم نواز کے دعوے کا پول کھل گیا

datetime 19  مارچ‬‮  2019 |

لاہور(اے این این ) سابق وزیر اعظم کی صاحبزادی مریم نواز کا کہنا ہے کہ ان کا اپنے والد سے رابطہ نہیں ہورہا جبکہ جیل قوانین کے مطابق نواز شریف کے پاس اپنے گھر فون کرنے کا اختیار موجود ہے۔پنجاب پریژن فاؤنڈیشن جیل رولز کے مطابق کوٹ لکھپت جیل میں سزا بھگتنے والے سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کے پاس جیل میں ٹیلی فون بوتھ کے ذریعے فون استعمال کرنے کا استحقاق موجود ہے۔

قانون کے تحت دہشت گردی مقدمات کے علاوہ ہر قسم کا قیدی و حوالاتی ہفتے میں 20 منٹ تک پہلے سے دئیے گئے پانچ ٹیلی فونز نمبر پر اپنی فیملی سے بات کرسکتا ہے جس کے لیے اسے 100روپے فی ہفتہ جیل انتظامیہ کو ادا کرنے ہوتے ہیں۔ نوازشریف کو یہ سہولت میسر ہے یا نہیں اس حوالے سے حکومتی ایوانوں اور مسلم لیگ(ن) کے درمیان متضاد رائے ہے ۔موجودہ وفاقی سیکریٹری داخلہ میجر (ر)اعظم سلیمان خان 2014.15 میں جب ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ پنجاب تھے تو اس وقت کے آئی جی میاں فاروق نذیر اور ڈی آئی جی میاں سالک جلال نے حکومتی ہدایات پر صوبہ کی 11 اہم اور بڑی جیلوں میں ٹیلی فون بوتھ نصب کروائے تھے جن کی تعداد فی جیل 24 تھی۔محکمہ داخلہ ذرائع کے مطابق صوبے کی ان جیلوں میں 24 سے 32 ٹیلی فون بوتھ نصب کیے گئے تھے جن کو پنجاب پرزن فاؤنڈیشن کے تحت آپریٹ کیا جارہا ہے۔ جیل میں موجود قیدی و حوالاتی کی اپنے فیملی سے ٹیلی فونک کمیونیکشن کا ایک یہ موثر رابطہ ہے۔ محکمہ داخلہ ذرائع کے مطابق ان 11 بڑی جیلوں میں آنے والا ہر قیدی و حوالاتی پانچ ٹیلی فون نمبرز جیل انتظامیہ کو دینے کا پابند ہے۔اس حوالے سے جیل انتظامیہ 1,2,3,4,5 کے حساب سے نمبر کی کوڈنگ نمبرنگ کردیتی ہے متعلقہ قیدی یا حوالاتی اپنی باری پر ہفتے میں 20 منٹ تک ایک سے دو مرتبہ بات کرسکتا ہے۔

جس کے لیے ان جیلوں میں خصوصی طور پر آپریٹر سسٹم نصب کیا گیا ہے کہ جہاں پر قیدی و حوالاتی اپنے دئیے گئے پانچ نمبرپر کوڈ 1۔2۔3۔4۔5 کے حساب سے آپریٹرکو بتاتے ہیں جو نہ صرف ان کی کال ملا تا ہے بلکہ اس کی ریکارڈنگ کرنے کا بھی پابند ہے۔جیل ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم محمد نوازشریف ،ان کی بیٹی مریم نواز اور ان کے داماد کیپٹن(ر)صفدر جب اڈیالہ جیل میں قید تھے تو وہ اس ٹیلی فونک کمیونی کیشن کی سہولت سے استفادہ کرتے رہے ہیں ۔

تاہم مریم نواز کی اپنے والد سے کئی دنوں تک ملاقات نہ ہونے کے باعث ایک ٹویٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ اپنے والد سے ملاقات کے علاوہ بات کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔مریم نواز کے اس ٹویٹ پر حکومتی ایوانوںمیں کھلبلی سی مچی ہوئی ہے۔ اس ضمن میں محکمہ داخلہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف کوٹ لکھپت جیل میں بوتھ ٹیلی فون کمیونی کیشن کی سہولیات استعمال کر رہے ہیں دوسری جانب لیگی ذرائع کہتے ہیں کہ انھیں یہ سہولیات نہیں دی گئیں۔اس ضمن میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نواز شریف کی صحت کے حوالے سے محکمہ داخلہ محکمہ جیل اور محکمہ صحت سے دن میں دو دفعہ رپورٹ حاصل کر رہا ہے تاکہ نواز شریف کو ایمرجنسی کی صورت میں بروقت طبی امداد دی جاسکے اور ہسپتال منتقلی کو یقینی بنایا جاسکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…